الإثنين، 23 ربيع الأول 1439| 2017/12/11
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 پاکستان نیوز ہیڈ لائنز 29ستمبر2017

 

۔ امریکہ کوافغانستان کی دلدل سے نکلنےمیں مدد دینے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ سے مذاکرات کی حمایت مت کرو

- افغانستان میں بھارت کی موجودگی اور اثرو رسوخ کا پھیلاؤ امریکہ سے اتحاد کا نتیجہ ہے

 - اختیار اور اقتدار پر کشمکش اور اس کے حصول کی جنگ چل رہی ہے جبکہ درحقیقت جو معاملہ حل طلب ہے وہ یہ کہ حاکمیت اعلٰی کس کی ہے

تفصیلات:  

 

امریکہ کوافغانستان کی دلدل سے نکلنےمیں مدد دینے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ سے مذاکرات کی حمایت مت کرو

 

پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان نے 25 ستمبر 2017 کو کہا کہ امریکہ طالبان کو تباہ کرنے کوشش  بند کردے اور اس کی جگہ پاکستان کی مدد سے ان کے ساتھ بات چیت کرے۔ اے پی نیوز ایجنسی کوآج دیے گئے ایک انٹرویو میں عمران خان نے کہا ، "میں سمجھتا ہوں کی ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی بہت خراب ہے۔  وہ نہ تو پاکستان کی تاریخ اور نہ ہی افغان عوام کے کردار کو جانتا ہے"۔  عمران خان نے مزید کہا کہ "اگر افغانستان میں اب بھی طالبان میں اضافہ ہورہا ہے  تو پھر اس کی کچھ اور وجوہات ہوں گی، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ افغانستان میں ایک مقامی  تحریک چل رہی ہے۔ کئی صدیوں سے افغانستان نےتمام  غیر ملکی حملہ آوروں کی مزاحمت کی ہے۔  جنگ اور خون خرابہ جواب نہیں ہے۔ میں نے 17 سال قبل کہا تھا اور میں اب بھی یہی کہہ رہا ہوں"۔ 

 

ایک ایسے شخص کی جانب سے  مزاکرات کی حمایت کرنا جس کو اگلے وزیر اعظم کے طور پر پیش کیا جارہا ہوں امریکی صدر ٹرمپ کے لیے انتہائی خوش آئیند بات ہے۔ امریکہ افغانستان میں فوجی لحاظ سے ناکام ہو گیا ہے۔ اب اس ناکامی کی صورتحال سے نکلنے کے لیے امریکہ بات چیت کا سہارا لینا چاہتا ہے تا کہ افغانستان میں اس کی موجودگی کسی بھی صورت برقرار رہے۔  امریکہ نے  افغانستان پر فوجی لحاظ سے مکمل فتح حاصل کرنے کے لیے 2008 سے اپنی گرتی ہوئی معیشت پر بھر بوجھ ڈالا۔ امریکہ کی فوج  جوش و جذبے سے عاری اور تھک چکی ہے جبکہ اس کے پاس انتہائی جدید ٹیکنالوجی اور اسلحے کے بھر مار ہے۔  ٹرمپ کی جانب سے افغانستان میں امریکی افواج میں اضافے کے اعلان کا مقصد  طالبان کے ساتھ بات چیت شروع کرنا ہے۔ امریکہ نے اپنے علاوہ دیگرممالک   اور ان کے سیاسی و معاشی اور فوجی وسائل کو  بھی استعمال کیا لیکن وہ بھی تمام کے تمام ناکام رہے۔  امریکہ نے نیٹو افواج کو استعمال کیا لیکن ناکام رہا۔ امریکہ نے افغانستان میں بھارت کو داخل ہونے کا بھر پورموقع فراہم کیا لیکن اپنے مقصد کے حصول میں ناکام رہا۔  امریکہ نے پاکستان کی فوجی قیادت میں موجود غداروں کے ذریعے افواج پاکستان کو افغان مزاحمت کو ختم کرنے کے لیے استعمال کیا  لیکن وہ ناکام رہا اور آج بھی افغان مزاحمت پاک افغان سرحد کے دونوں جانب حرکت کرتے ہیں اور امریکی افواج پر زبردست حملے کررہے ہیں۔  امریکہ نے افغانستان میں زبردست پولیس فورس اور افغان آرمی کھڑی کی لیکن ناکام رہا کہ اسی افغان پولیس اور آرمی  میں موجود افغان مسلمان امریکی فوج پر انتہائی خوفناک حملے کرنے لگے جس نے امریکی فوج کو ہلا کررکھ دیا اور شدید خوفزدہ بھی کردیا۔  اور امریکہ نے افغانستان اور پاکستان میں موجود اپنے ایجنٹوں کے درمیان ظاہری دشمنی کو ہوادے کر پاک افغان سرحد  پر مزید فوجی چوکیاں اور نگرانی کا  زیادہ سخت نظام نافذ کروایا لیکن وہ اس کے باوجود بھی ناکام رہا۔

 

ایک مخلص اسلامی قیادت کبھی بھی  مزاکرات کی حمایت نہیں کرے گی کہ وہ جنگ جو امریکہ میدان جنگ میں ہار چکا ہے اسے مزاکرات کی میز پر جیت جائے بلکہ وہ قیادت امریکہ کی مشکلات میں مزید اضافہ  کرے گی  اور خطے میں اس کے وجود کا خاتمہ کرے گی۔  مخلص اسلامی قیادت اپنی انٹیلی جنس کو حرکت میں لائے گی اور افغان طالبان کو مزاکرات کے خطرات سے آگاہ اور انہیں جہاد جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی کرے گی  کیونکہ اللہ کی راہ میں جہاد کر کے ہی عزت اور کامیابی ملتی ہے جیسا کہ اسلام کی چودہ سو سال کی تاریک اس حقیقت پر گواہ ہے۔  ایک مخلص اسلامی قیادت افغانستان اور پاکستان کے مسلمانوں کو ایک ریاست کے تحت یکجا کرنے کے لیے کام کرے گی تا کہ ان کے دشمنوں کے خلاف وہ طاقتور ہوجائیں  اور اس بات کو یقینی بنائے گی کہ امریکہ اس خطے سے ذلیل و رسوا  ہو کر نکلے۔  صرف خطے سے امریکہ کا ذلیل و رسوا ہو کر نکلنا ہی اسے دنیا کی صف اول کی ریاست کے مقام سے گرا دے گا جس کا وہ حق نہیں رکھتا اور دنیا کے تمام لوگوں کے لیے بھی یہ ایک خوش آئیند بات ہو گی جو اس کے تکبر سے سخت تنگ ہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا،

 

إِنْ يَنْصُرْكُمُ اللَّهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ وَإِنْ يَخْذُلْكُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِي يَنْصُرُكُمْ مِنْ بَعْدِهِ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ

"اگر اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرے؟ ایمان والو کو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے"

(آل عمران:160) ۔

 

افغانستان میں بھارت کی موجودگی اور اثرو رسوخ کا پھیلاؤ امریکہ سے اتحاد کا نتیجہ ہے

 

27 ستمبر 2017 کو امریکی سیکریٹری دفاع کی کابل آمد اور افغان مزاحمت کی جانب سے حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے کے اطراف میں  ان کا 20 سے 30 راکٹوں سے استقبال سے قبل بھارت اور امریکہ نے اس بات کی تجدید کی کہ وہ افغانستان کے معاملات میں مداخلت کرتے رہیں گے۔  26 ستمبر 2017 کو امریکی سیکریٹری دفاع میٹس نے بھارتی وزیر دفاع نرملا سیتارامن کی موجودگی میں  کہا کہ "ہم افغانستان میں بھارت کے قیمتی حصے داری کی تعریف کرتے ہیں اور افغانستان میں جمہوریت، استحکام اور تحفظ کے لیے  مزید کوششوں کو خوش آمدید کہتے ہیں"۔ امریکہ کی آشیر باد سے افغانستان میں بھارت کا اثرورسوخ اب قابل ذکر ہے۔ بھارت پہلے ہی افغانستان کو 3 ارب ڈالر کی امداد دینے کا اعلان کرچکا ہے اور اس کے علاوہ اس کی فوج کو تربیت اور دوسری معاونت بھی فراہم کررہاہے۔ امریکہ کی حمایت سے بھارت افغانستان میں ڈیمز، سڑکیں اور پارلیمنٹ کی نئی عمارت تعمیرکررہا ہے۔ پچھلے سال بھارت نے 1 ارب ڈالر کی امداد کی پیشکش کی تھی۔ بھارت نے 4 ہزار سے زائد افغان نیشنل آرمی کے افسران کی تربیت کی ہے اور افغان فضائیہ کو ہیلی کاپٹر بھی فراہم کیے ہیں۔ 

 

پاکستان کے مسلمانوں میں عمومی طور پر اور بلخصوص ان کی افواج میں موجود شدید غصہ  اسے پہلے کبھی اتنا نہ تھا۔ عوامی دباؤ محسوس کرتے ہوئے  پاکستان کی قیادت امریکہ و بھارت  کے تعلق کومسترد کررہی ہے لیکن امریکہ کے ساتھ اتحاد کوہر قیمت پر برقرار رکھنے کی بہت احتیاط  کے ساتھ کوشش بھی کررہی ہے۔  تو امریکہ سے فاصلہ پیدا کرنے کے نعروں  کے باوجود پاکستان کی قیادت نے امریکہ کے ساتھ مضبوط سیاسی، معاشی اور فوجی اتحاد برقرار رکھا ہوا ہے۔ 

 

پاکستان کے حکمرانوں نے پاکستان کو کس قدر ناشکرگزار آقا کی غلامی میں باندھ رکھا ہے۔ ایک طرف امریکہ افغانستان میں اپنی موجودگی کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان سے مزید کوششوں کا مطالبہ کرتا رہتا ہے اورا س کے ساتھ ہی ساتھ پاکستان کے خلاف بھارت کی بھر پور مدد کررہا ہے۔ لہٰذا امریکہ بھارت کی ایٹمی صلاحیت ، جس میں نئے ایٹمی ری ایکٹروں کی تعمیر بھی شامل ہے، اور  میزائل ٹیکنالوجی کنٹرول ریجیم (ایم ٹی سی آر) کے ذریعے اسے حساس میزائل ٹیکنالوجی فراہم کررہا ہے جبکہ  پاکستان کی حکومت کم ماحیت کے ٹیکٹیکل ایٹمی ہتھیاروں تک ہماری صلاحیت کو محدود کررہی ہے۔  امریکہ افغانستان میں بھارتی کلبھو شن یادیو نیٹ ورک کو وسعت دینے میں مدد فراہم کررہا ہے جبکہ پاکستان کی حکومت  افغانستان میں امریکی موجودگی کو برقرار رکھنے کے لیے وہاں سیاسی تصفیے کے لیے امریکہ کوبھر پور مدد فراہم کررہی ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ کشمیر کے مسئلے کو دفن کرنے اور جو اس کی آزادی کے لیے لڑ رہے ہیں انہیں "دہشت گرد" قرار دینے کا مطالبہ کررہا ہے اور پاکستان کے حکمران اس کے ان مطالبات کو تسلیم کررہے ہیں۔ امریکہ اور بھارت دین اسلام کو "دہشت گردی" اور "انتہاپسند" قرار دیتے ہیں ، جسے مسلمان اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں اور جو ان کاسب سے زیادہ طاقتور اثاثہ ہے، اور پاکستان کے حکمران اسلام کی بنیاد پر سیاسی اظہار رائے جس میں امت کی ڈھال خلافت کی دعوت بھی شامل ہے، کو قوت کے زور پر ختم کرنے کی بھر پور کوشش کررہے ہیں۔ پاکستان کے کمزور حکمران  یہ کوشش کررہے ہیں کہ وہ  مغربی صلیبیوں اور ہندو مشرکین کے خلاف  ہمیں کمزور کردیں جبکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے خبردار کیا ہے کہ،

 

مَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَلاَ الْمُشْرِكِينَ أَنْ يُنَزَّلَ عَلَيْكُمْ مِنْ خَيْرٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَاللَّهُ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ 

"نہ تو اہل کتاب کے کافر اور نہ مشرکین  یہ چاہتے ہیں کہ تم پر تمہارے رب کی کوئی بھلائی نازل ہو، اللہ تعالیٰ جسے چاہے اپنی رحمت خصوصیت سے عطا فرمائے، اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے"

(البقرۃ:105)

  

اختیار اور اقتدار پر کشمکش اور اس کے حصول کی جنگ چل رہی ہے

جبکہ درحقیقت جو معاملہ حل طلب ہے وہ یہ کہ حاکمیت اعلٰی کس کی ہے 

 

جمہوریت کے داعی امت کی نظروں میں اہمیت کھوتے جارہے ہیں کیونکہ امت  موجودہ تباہ کُن صورتحال سے نکلنے کے لیے اسلام کی جانب رجوع کررہی ہے۔ پاکستان میں جمہوریت کے داعی اس بات میں شدت سے الجھے ہوئے ہیں  کہ حقِ حکمرانی کس کا ہے۔ اس حقِ حکمرانی کے حوالے سے مختلف جماعتوں میں کشمکش جاری ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما نے 27 ستمبر 2017 کو سپریم کورٹ  کو بتایا کہ  پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی جانب سے اپنی بنی گالا کی زمین کی خریداری کے حوالے سے حالیہ جمع کرایا جانے والا جواب ان کے پچھلے جواب سے مختلف  اور متضاد ہے۔  صرف مختلف جماعتوں میں اقتدار کی کشمکش نہیں ہے بلکہ جماعتوں کے اندر بھی یہ کشمکش موجود ہے۔ پاکستان کی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے عہدے کو حاصل کرنے کی تحریک انصاف کی کوششوں کو اس وقت شدید دھچکہ پہنچا جب بدھ کے دن خود تحریک انصاف میں شاہ محمود قریشی کو قائد حزب اختلاف بنانے کے حوالے سے شدید اختلافات سامنے آگئے اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستان مسلم لیگ ق نے بھی تحریک انصاف کی  اس کوشش کی حمایت سے انکار کردیا۔ 

 

اقتدار کے لیے جاری موجودہ کشمکش  زیادہ سے زیادہ کچھ ظاہری  تبدیلیاں  لائے گی لیکن جمہوریت اپنی جگہ پر مضبوطی سے قائم و دائم رہے گی اور وہ اس بات کو یقینی بنائے گی کہ حاکمیت اعلیٰ انسانوں کے پاس رہے جو اپنے مفادات اور خواہشات کے مطابق فیصلے کریں  تا کہ  اپنے مفادات کی تکمیل کو یقینی بنائے رکھیں۔ جمہوریت میں حاکمیت اعلیٰ، یعنی کہ وہ کون ہے جو یہ فیصلہ کرے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط، اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے پاس نہیں بلکہ انسانوں کے پاس ہے۔ لہٰذا ذاتی مفادات کے اسیر افراد یہ جانتے ہیں کہ ایک بار جب وہ جمہوری نظام میں منتخب ہو جائیں گے تو وہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے قوانین بناسکیں گے۔  ہم میں موجود کسی بھی کرپٹ کے لیے عوامی نمائندہ بننے کے لیے کروڑوں روپے خرچ کرنا ایک سمجھداری کی "سرمایہ کاری" ہے کیونکہ اس پر اچھا "منافع" آتا ہے۔  ان اسمبلیوں کا مقصد عوام کے مفادات  کا تحفظ کرنا نہیں ہوتا بلکہ ان کے ذریعے کرپٹ عناصر اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔

اس جمہوری نظام میں ہزاروں تفتیشیں اور فیصلے  ہماری بدحالی اور ذلت و رسوائی  کی صورتحال کو کبھی بھی بدل نہیں سکتے۔ منتخب حکمران اور اسمبلیوں کو یہ حق ہے کہ وہ ہزاروں قوانین اور پالیسیاں بنائیں جو کھلم کھلا  اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے  اوامر و نواہی کی خلاف ورزی کرتی ہوں۔ ہمیں اس کرپٹ جمہوریت سے منہ موڑ لینا چاہیے جو اس قدر بڑی تعداد میں کرپٹ حکمران اور کرپٹ قوانین دیتی ہےجیسے کہ کوئی فیکڑی لگی ہوئی ہے۔  جمہوریت اپنے مرضی کے قوانین بنا کر دوسروں کو غلام بنانے کی داعی ہے اور کتاب اللہ  اور  سنت رسول اللہﷺ کو مکمل نظر انداز کرتی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا،

 

وَأَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ وَاحْذَرْهُمْ أَنْ يَفْتِنُوكَ عَنْ بَعْضِ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ إِلَيْكَ

"اور آپ  ان کے معاملات میں اللہ کی نازل کردہ وحی کے مطابق ہی حکم کیاکیجئے، ان کی خواہشوں کی تابعداری نہ کیجئے اور(اے محمد) ان سے ہوشیار رہیے کہ کہیں یہ آپ کو اللہ کے اتارے ہوئے کسی حکم سے اِدھر اُدھر نہ کریں "(المائدہ:49)۔

 

صرف خلافت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ حاکمیت اعلیٰ صرف اور صرف اللہ ہی کے لیے مخصوص ہے کیونکہ اس کے آئین اور قوانین کا ماخذ صرف اور صرف قرآن و سنت ہوتے ہیں۔  لہٰذا خلافت میں مجلس امت کے منتخب مرد و خواتین کوئی قوانین نہیں بناتے بلکہ وہ  اسلام کی بنیاد پر حکمرانوں کی حکمرانی کا احتساب کرتے ہیں ۔ اور خلیفہ کو بھی  اس بات کا کوئی حق نہیں کہ وہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے اوامر و نواہی کے علاوہ کوئی اور قانون نافذ کرے۔ 

 

 

Last modified onاتوار, 01 اکتوبر 2017 02:46

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک