الجمعة، 27 ربيع الأول 1439| 2017/12/15
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

پاکستان نیوز ہیڈ لائنز 6 اکتوبر2017 

۔ پاکستان کو اس کی صلاحیت کے مطابق مقام حاصل کرنے میں انسانوں کے بنائے قوانین رکاوٹ ہیں

- روس کے ساتھ"دوستانہ"فوجی مشقیں اسلام کے احکامات کی صریح خلاف ورزی ہے جس کے تحت حملہ آور جارح ریاستوں کے ساتھ اتحاد ممنوع ہے

- پاکستان کے حکمرانوں نے امریکہ کے ساتھ اپنے تباہ کُن اتحاد کی توثیق کردی

 

تفصیلات:

 

پاکستان کو اس کی صلاحیت کے مطابق مقام حاصل کرنے میں انسانوں کے بنائے قوانین رکاوٹ ہیں

یکم اکتوبر 2017 کو ڈان اخبار نے یہ خبر دی کہ پاکستان کے حکمران "درآمدات کو کم کرنے کے لیے نئی ریگولیٹری ڈیوٹیز" نافذ کرنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ ایک سینئر اہلکار نے کہا کہ، "حکومت  ریگولیٹری ڈیوٹیز کے ذریعے برآمدات  کے لیے مراعات اور درآمدات کو کم کرنے کی کوشش کررہی ہے"۔

حکومت مسئلہ کی بنیاد کو سمجھنے میں ناکام ہے۔  ملکی صنعت و مصنوعات کو تحفظ فراہم کرنے اور تجارتی خسارے کو ختم کرنے کی کوشش پاکستان کی معیشت کو اتنا مضبوط نہیں کرے گی جس قدر اس میں صلاحیت موجود ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اسلام کی غیر موجودگی کی وجہ سے پاکستان میں دولت کا ارتکاز ہورہا ہے نا کہ تقسیم۔ اور یہ صورتحال معاشی نظام کی وجہ سے ہے۔ اس مسئلے کومزید خراب استعماریت کا اثرورسوخ کردیتا ہے جس کی وجہ سے معاشی سائنس پر توجہ نہیں دی جاتی ۔

جہاں تک معاشی سائنس کا تعلق ہے تو یہ بات تو واضح ہے کہ اس بات کے باوجود کہ پاکستان معدنیات، تونائی اور انسانی وسائل سے مالا مال ہے، لیکن اس کے باوجود پاکستان کی صنعت کمزور ہے اور جدید مضبوط ریاست کے لیے درکار بھاری صنعت کی ضروریات کو پورا نہیں کرسکتی۔  ٹماٹروں کی درآمدپر قدغن  لگانے کی کیا وقعت ہے جبکہ پاکستان جاپانی انجنوں، امریکی اسلحے، چینی تعمیراتی مشینوں،  جرمن صنعتی مشینوں اور برطانوی کیمیکلز پر انحصار کرتا ہے۔  کھیلوں کے سامان کی برآمد کو بڑھا کر  پاکستان کتنا زرمبادلہ کما لے گا اگر ہم عالمی معیار کی گاڑیاں، طبی آلات اور سٹیلتھ فوجی ٹیکنالوجی  کو نہیں بنا  سکتے۔

اسلام کے ایک نظام کی صورت میں عدم نفاذ کی وجہ سے معدنیات اور توانائی کے عظیم وسائل نجکاری کے نام پر چند لوگوں کے حوالے کردیے جاتے ہیں جبکہ اسلام نے انہیں عوامی اثاثہ قرار دیا ہے جس کا فائدہ ریاست خلافت کے تمام شہریوں کو پہنچایا جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا،

 

المسلمون شرکاء فی ثلاث الماء والکلاء والنار

"مسلمان تین چیزوں میں شریک ہیں: پانی، چراگاہیں اور آگ(توانائی)"(ابو داود)۔ 

 

ایک ایسے وقت میں جب دنیا  سرمایہ دارانہ مغرب کی معاشی پالیسیوں کے ظلم سے نجات کے لیے پکار رہی ہے تو پاکستان کے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ان غلام حکمرانوں سے نجات حاصل کریں جو مغربی نظاموں اور استعماری منصوبوں کو پورا کرتے ہیں۔ ایسا صرف اسی صورت میں ہوگا اگر وہ نبوت کے طریقے پر خلافت کے قیام کے لیے حرکت میں آئیں تا کہ دنیا اسلام کے معاشی نظام کے ثمرات کا مشاہدہ کرلیں اور اس خلیفہ راشد کو دیکھیں جو اسلامی ریاست کو دنیا کی صف اول  کی ریاست بنانے کے لیے  دن رات ایک  کرتا ہے جیسا کہ صدیوں تک اسلامی ریاست دنیا کی صف اول کی ریاست تھی۔ 

      

 

روس کے ساتھ "دوستانہ" فوجی مشقیں اسلام کے احکامات کی صریح خلاف ورزی ہے

جس کے تحت حملہ آور جارح ریاستوں کے ساتھ اتحاد ممنوع ہے

4اکتوبر 2017 کو دو ہفتوں پر محیط پاکستان اور روس کے فوجی کمانڈوز کی "دہشت گردی" کے خلاف مشترکہ مشقیں اختتام پزیر ہورہی ہے۔ ان مشقوں کو "دوستی 2017" کا نام دیا گیا تھا۔ ان مشقوں میں دونوں ممالک کے جانب سے 200 سے زائد فوجیوں نے حصہ لیا جن میں سے زیادہ تر کا تعلق اسپیشل فورسز سے تھا۔ آئی ایس پی آر  کے مطابق "یرغمالیوں کی رہائی" اور "ناقہ بندی اور تلاشی"  کی مشقیں کیں گئیں۔  آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ، "مشترکہ مشقیں دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعلقات کو وسعت  دیں گی اور مضبوط بنائیں گی اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان آرمی کے تجربے سے آگاہی ہوگی"۔ اس کے علاوہ اس بات کی بھی توقع ہے کہ 4 اکتوبر کو مشقوں کےاختتام کے ساتھ ہی پاکستان آرمی کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا روس کا سرکاری دورہ بھی شروع ہو جائے۔

یہ مشترکہ فوجی مشقیں اس وقت ہو رہی ہیں جب روسی جنگی طیارے شام میں مسلمانوں کے شہر ادلیب پر وحشیانہ بمباری کررہے ہیں۔ اس سے پہلےاسی قسم کی مشقیں 2016 میں بھی ہوئیں تھی اور اس وقت بھی روسی طیارے شام کے شہر حلب پر وحشیانہ بمباری کررہے تھے جس میں ہزاروں شہری ہلاک و زخمی ہوئے تھے۔  اس تمام تر صورتحال سے آگاہی رکھتے ہوئے روس مسلم دنیا کی سب سے باصلاحیت فوج کے ساتھ  اس وقت تعلقات بڑھا رہا ہے جب وہ ایک بار پھر ایک اور مسلم شہر پر حملہ آور ہے۔  پاکستان کی فوجی قیادت میں موجود غدار ان "دوستی" کی مشقوں کے متعلق یہ تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں  کہ یہ  امریکی مدار سے نکلنے کوشش کا حصہ ہے۔ روس دوست کیسے ہوسکتا ہے جبکہ وہ اسلام اور مسلمانوں کا شدید دشمن ہے۔ روس کے ہاتھ تو دس لاکھ سے زائد مسلمانوں کے خون سے رنگیں ہیں جب اس نے سوویت یونین کے دور میں افغانستان پر حملہ کیا تھا، اس کے ہاتھ دو لاکھ سے زائد چیچن مسلمانوں کے خون سے رنگیں ہیں ، اور اب وہ اپنے ہاتھ شام کے مسلمانوں کے خون سے رنگ رہا ہے۔ اس کے علاوہ روس میں اسلام کی اقدار اور اس کی بنیاد پر سیاسی اظہارے رائے کو کچلا اور اس پر پابندیاں عائد کیں جاتی ہیں۔ اس صورتحال میں مسلم دنیا کی سب سے باصلاحیت فوج کس طرح اسلام اور مسلمانوں کے اس قدر شدید دشمن کے ساتھ "دوستی"مشقیں کرسکتی ہے؟

پاکستان کی سیاسی و فوجی قیادت ان دوستانہ مشقوں کو  اس حقیقت کو جھٹلانے کے لیے استعمال کررہی ہے کہ وہ اسلام کے خلاف جنگ میں امریکہ کی کٹھ پتلیاں ہیں۔ لیکن کوئی بھی با خبر شخص یہ جانتا ہے کہ پاکستان اب بھی اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں پر  امریکی مدار میں ہی گردش کررہا ہے۔ یہ نام نہاد دوستانہ مشقیں بھی امریکی اجازت سےکی گئی ہیں تا کہ  ایک ایسے وقت میں جب امریکہ کے خلاف جذبات شدید سے شدید تر ہوتے جارہے ہیں تو اس کے ایجنٹوں کے متعلق منفی تاثر کو بہتر بنایا جاسکے  اور ساتھ ہی ساتھ روس کی صلاحیت میں اضافہ بھی کیا جائے کیونکہ وہ شام امریکی مفادات کے تحفظ کی ڈیوٹی انجام دے رہا ہے۔

اس  قسم کا اتحاد اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے احکامات کی کھلم  کھلا خلاف ورزی ہے کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا،

 

 لَّا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ ۖ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ إِلَّا أَن تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً ۗ وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ ۗ وَإِلَى اللَّهِ الْمَصِيرُ

"مؤمنوں کو چاہیے کہ ایمان والوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں، اور جو ایسا کرے گا وہ اللہ تعالیٰ کی کسی حمایت میں نہیں مگر یہ کہ ان کے شر سے کسی طرح بچاؤ مقصود ہو، اور اللہ تعالیٰ خود تمہیں اپنی ذات سے ڈرا رہا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹ جانا ہے"(آل عمران:28)۔ 

 

یہ آیت مسلمانوں کو یہ حکم دیتی ہے کہ وہ کفار کو اپنا دوست نہ بنائیں  یعنی دوستی اور اتحاد کے نام پر  نہ ہی ان کی معاونت طلب کریں اورنہ ان پر انحصار کریں۔  لیکن سیاسی و فوجی قیادت میں موجود حکمران، ہم پر حملہ آور دشمنوں، امریکہ، روس اور چین  سے اتحاد اور دوستیاں بڑھا رہے ہیں ۔  ہم پر لازم ہے کہ طاقت اور عزت اسلام کے ذریعے ہی حاصل کریں اور نبوت کے طریقے پر خلافت قائم کریں جو تمام مسلم علاقوں کو ایک جھنڈے تلے یکجا کردے گی اور ان جارح دشمنوں کے ساتھ قائم  تمام اتحادوں کا خاتمہ کردے گی۔  

        

پاکستان کے حکمرانوں نے امریکہ کے ساتھ اپنے تباہ کُن اتحاد کی توثیق کردی

4 اکتوبر 2017 کو امریکی سیکریٹری خارجہ ریکس ٹیلرسن نے پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان امریکہ کا قابل بھروسہ شراکت دار ہے۔  جب اُن سے یہ پوچھا گیا کہ پاکستان کے وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات  نے انہیں اس بات پر قائل کیا ہے کہ پاکستان امریکہ کا قابل بھروسہ شراکت دارہے تو سیکریٹری ٹیلرسن نے کہا: "ہاں میں سمجھتا ہوں کہ ہے۔  اور یہ شراکت داری  صرف محفوظ افغانستان کے حوالے سے نہیں بلکہ اس کا تعلق پاکستان کی اہمیت  اور پاکستان کے طویل مدتی استحکام سے بھی ہے"۔ سیکریٹری ٹیلرسن نے مزید کہا کہ:"لہٰذا ہم یہ سمجھتے ہیں کہ تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے ہمارے پاس ایک موقع ہے۔  ہم  دفتر خارجہ سے دفتر دفاع ، ہماری انٹیلی جنس  اور اس کے ساتھ ساتھ معاشی اور تجارتی مواقوں سمیت ہر سطح پر سخت کام کریں"۔

کافر استعماریوں کے ساتھ ستر سال کے اتحاد نے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ اتحاد غداری، ذلت و رسوائی اور عدم تحفظ کا راستہ ہے۔ صلیبیوں کے ساتھ پچھلے سولہ سال کے اتحاد نے آپ کو ایسی فوجی قیادت دی جنہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی پر آسائش زندگی کو یقینی بنانے کے لیے ہمارے تحفظ اور آپ کے خون کا سودا کیا ۔ صلیبیوں کے ساتھ اتحاد نے آپ کو مشرف دیا جس نے افغانستان پر امریکی حملے اور قبضے کے لیے ہمارے فضائی راستے، سرزمین اور انٹیلی جنس امریکہ کو فراہم کیں جبکہ امریکہ مشرف کی اس مددکے بغیر کسی صورت افغانستان پر قبضہ نہیں کرسکتا تھا۔ صلیبیوں کے ساتھ اتحاد نے آپ کو کیانی اور راحیل دیےجنہوں نے آپ کی طاقت و قوت کو قبائلی علاقوں میں استعمال کیا تا کہ افغانستان میں بزدل صلیبی افواج کو تحفظ فراہم کیا جاسکے۔ حالانکہ اگر امریکہ کو یہ مدد فراہم نہ کی جاتی تو آج سے بہت پہلے ہی امریکہ "سلطنتوں کے قبرستان" میں دفن ہو چکا ہوتا جیسا کہ اس سے پہلے برطانوی راج اور سوویت یونین کو دفنایا گیا تھا۔ اور اب اِن صلیبیوں کے ساتھ اتحاد نے آپ کو باجوہ دیا ہے جو ناقابل اعتبار اتحادی کے ساتھ اتحاد کو جاری رکھتے ہوئے افغان طالبان کو مذاکرات کے  جال میں پھنسانے کی کوشش کررہا ہے تا کہ تھکی ماندی امریکی فوج کی ہمارے دروازے پر موجودگی کو سیاسی جواز میسر آجائے۔    

یہ وقت ہے کہ ہم نبوت کے طریقے پر خلافت قائم کریں تا کہ ہمیں وہ حکمران نصیب ہوں جو صرف اور صرف اسلام کے ذریعے عزت و شہرت کے متمنی ہوں اور اس کے حصول کے لیے شدید کوشش بھی کریں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہمیں خبردار کیا ہے،

 

ٱلَّذِينَ يَتَّخِذُونَ ٱلْكَافِرِينَ أَوْلِيَآءَ مِن دُونِ ٱلْمُؤْمِنِينَ أَيَبْتَغُونَ عِندَهُمُ ٱلْعِزَّةَ فَإِنَّ ٱلعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعاً

"جن کی حالت یہ ہے کہ مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے پھرتے ہیں ، کیا ان کے پاس عزت کی تلاش میں جاتے ہیں؟ (تو یاد رکھیں کہ) عزت تو ساری کی ساری اللہ تعالیٰ کے قبضے میں ہے "(النساء:139)

Last modified onپیر, 09 اکتوبر 2017 19:52

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک