الثلاثاء، 04 ربيع الثاني 1440| 2018/12/11
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

پاکستان نیوز ہیڈ لائنز 20 جولائی 2018

  

۔ جمہوریت اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی جگہ انسان کو شارع قرار دیتی ہے جو کہ حرام ہے

- بیرونی مالی معاونت پاکستان کے تعلیمی  شعبے کے لیے باعث نقصان ہے، خلافت اب وقت کی ضرورت ہے

- نبوت کے طریقے پرقائم خلافت نہ تو قومی  اور نہ ہی فرقہ پرست ریاست ہوتی ہے

 

تفصیلات:

 

جمہوریت اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی جگہ انسان کو شارع قرار دیتی ہے جو کہ حرام ہے

پاکستان کے صوبے سند ھ کی صوبائی اسمبلی کے سابق اسپیکر نثار کھوڑو کے وکیل نے 11جولائی 2018 کو سپریم کورٹ کو بتایا کہ میرے موکل نے 2007 میں "زبانی" تیسری شادی کی تھی۔ سپریم کورٹ کا دو رکنی بینچ چیف جسٹس کی سربراہی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق قانون ساز کی نااہلی کے خلاف اپیل کی سماعت کررہاتھا۔  کھوڑو کے وکیل فاروق نائیک نے دعوی کیا کہ کھوڑو نے 2007 میں زبانی تیسری شادی کی تھی اور اپنی تیسری بیوی کو انہوں نے 2017 میں زبانی ہی طلاق دے دی تھی۔  چیف جسٹس آف پاکستان نے نائیک کو بتایا کہ قانون میں اس قسم کے زبانی معاملات کی کوئی گنجائش  نہیں ہے اور  یہ ضروری ہے کہ نکاح کو قانونی طور پر رجسٹر کیا جائے۔ چیف جسٹس نے نائیک سے مزید پوچھا کہ کیا کھوڑو نے تیسری شادی کی اجازت اپنی پہلی بیوی سے لی تھی اور واضح کیا کہ سابق قانون ساز کو ایک اور مقدمے کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اگر انہوں نے اجازت نہیں لی تھی۔

 

2 مارچ 1961 کو جنرل ایوب خان نے ایک آرڈیننس کے ذریعے "مسلم فیملی لاء" بل کی منظوری دی تھی جس کے تحت دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی کی اجازت لازمی قرار دی گئی۔  یہ قانون غیر اسلامی قانون ہونے کے باوجود  پاکستان کا قانون ہے جبکہ یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ پاکستان کاموجودہ 1973 کا آئین "اسلامی" ہے۔  1973 کے آئین کے متوالے بہت فخر سے اس بات کا دعوی کرتے ہیں کہ یہ ایک اسلامی آئین ہے کیونکہ  اس کا آرٹیکل 227 یہ اعلان کرتا ہے کہ "ان(اسلامی) قوانین سےمتصادم کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا"۔  لیکن بدقسمتی سے یہ لوگ اس بات کو سمجھ ہی نہیں پاتے کہ یہ آرٹیکل قرآن و سنت سے متصادم قوانین بنانے کے لیے ایک پردے کا کام کرتا ہے۔  یہ آرٹیکل ریاست کے اختیار کو اس طرح سے محدود نہیں کرتا کہ وہ صرف قرآن و سنت سے ہی قوانین لینے کی پابند ہے۔  درحقیقت آئین یہ کہتا ہے کہ پارلیمنٹ کی جانب سے بنایا جانے والا کوئی بھی  قانون قرآن و سنت سے متصادم نہیں ہے جب تک  کہ اس کے برخلاف ثابت نہ ہوجائے۔ لہٰذا  جب بھی پارلیمنٹ کوئی قانون بناتی ہے تو وہ اس بات کی پابند نہیں ہوتی  کہ وہ قرآن و سنت کے دلائل دے کر ثابت کرے کہ یہ قانون صرف اور صرف اسلام سے ہی لیا گیا ہے۔ آرٹیکل 227 کی وجہ سے ہی  ربا یعنی سود پر  اب تک عدالتوں میں  بحث  ہورہی ہے کہ آیا یہ حلال ہے یا حرام جبکہ قرآن و سنت نے اسے واضح طور پر حرام قرار دیا ہے۔ 

 

یہ تضاد اس لیے پیدا ہوتا ہے کیونکہ پاکستان کا آئین انسانوں کی اسمبلی کو قانون سازی کا  اختیار دیتا ہے  جو کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ  کے احکامات کے واضح طور پر خلاف ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا،

وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلاَ مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى ٱللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْراً أَن يَكُونَ لَهُمُ ٱلْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ وَمَن يَعْصِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلاَلاً مُّبِيناً

"اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کو حق نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کوئی امر مقرر کردیں تو وہ اس کام میں اپنا بھی کچھ اختیار سمجھیں۔ اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے وہ صریح گمراہ ہوگیا "(الاحزاب:36)۔ 

یہی وجہ ہے کہ حزب التحریر نے آنے والی ریاست کےمجوزہ دستور کے آرٹیکل 1 میں یہ تبنی کیا ہے کہ "اسلامی عقیدہ  دستور اور قوانین کے لیے ایسی اساس ہو گا کہ ان دونوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو"۔

 

بیرونی مالی معاونت پاکستان کے تعلیمی  شعبے کے لیے باعث نقصان ہے،

خلافت اب وقت کی ضرورت ہے

16 جولائی 2018 کو ڈان اخبار نے خبر شائع کی کہ عالمی بینک ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کو 200 ملین ڈالر فراہم کرسکتا ہے  تا کہ ملک کے تعلیمی شعبے  کو ترقی دی جائے۔  ایچ ای سی نے تعلیم کے شعبے کے لیے ایک خاکہ تیار کیا ہے جس میں اس شعبے کو  درپیش مسائل ، بین الاقوامی رجحانات کاتجزیہ اور پہلے کی جانے والی اصلاحات  سے حاصل ہونے والے تجربات کو  شامل کیا ہے ۔یہ خاکہ  عالمی بینک کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اس منصونے کے لیے 200 ملین ڈالر کی قسط کومنظور کرے جس کی کُل مالیت 1180 ملین ڈالر ہے۔ 

 

ایچ ای سی تعلیمی شعبے کی ترقی کے لیے بیرونی مالی معاونت پر انحصار  کررہی ہے جو اس بات کی نشاندہی بھی کرتی ہے کہ حکومت پاکستان میں تعلیمی شعبے کی خراب صورتحال کو بدلنے  میں ناکام ہے ۔ پاکستان کے قیام کے وقت سے  ہر آنے والی حکومت نے تعلیم کے لیے انتہائی کم وسائل فراہم کیے اور اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان اپنی کُل ملکی پیداوار کا 2 سے 2.5 فیصد تعلیم پر خرچ کرتا ہے جبکہ جنگ زدہ افغانستان 4 فیصد، بھارت 7 فیصد اور روانڈہ 9 فیصد تعلیم کے شعبے پر خرچ کرتا ہے۔  2011 میں یو ایس ایڈ کی جانب سے پیش کیے جانے والے ایک ورکنگ پیپر  میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ پاکستان کے 37 فیصد اسکولوںمیں لیٹرنز  اور 85 فیصد اسکولوں میں بجلی نہیں ہے جبکہ دیہی علاقوں  کے 50 فیصد اسکولوں میں پینے کا صاف پانی بھی میسر نہیں ہے۔  بنیادی سہولیات کے حوالے سے اس قدر خراب صورتحال نے ایچ ای سی کو اس بات پرمجبور کیا کہ وہ تعلیمی ترقی کے اپنے منصوبوں کی مالی معاونت کے لیے بیرونی اداروں سے تعاون طلب کرے۔ لیکن بیرونی مالی معاونت استعماری طاقتوں کو یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ مسلم دنیا کے لوگوں کے لیے ایسا تعلیمی نصاب تیار کریں کہ وہ ان کے اذہان کو تبدیل کر کے سیکولر بنا دے جو صورتحال کو مزید خراب کرتی ہے۔  اس کے علاوہ تعلیمی شعبے کے لیے فراہم کی جانے والی مغربی معاونت اساتذہ کی تربیت اور طلباء کے وظائف کے لیے استعمال ہوتی ہے جس سے "برین ڈرین" کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ باصلاحیت لوگ اور دماغ پاکستان چھوڑ جاتے ہیں اور واپس نہیں آتے کیونکہ انہوں نے جو تعلیم  اور تربیت حاصل کی ہوتی ہے اس سے مقامی صنعت اور زراعت کا شعبہ فائدہ ہی نہیں اٹھا سکتا ۔ یہ صورتحال اس لیے پیدا ہوتی ہے کیونکہ حکومت نے  تحقیق کے شعبے  کو مقامی صنعت اور زراعت  سے جوڑا ہی نہیں ہے اور اس طرح وہ ان کی ضروریات سے مکمل غافل رہتے ہیں۔  لہٰذا یہ کوئی حیران کن امر نہیں کہ پاکستان 2015 کی گلوبل اینوویشن اینڈیکس کے مطابق 141 ممالک میں 131 نمبر پر ہے۔ اس کے علاوہ  استعماری پالیسی کا ہدف ایسی تعلیمی پالیسی کانفاذ ہوتا ہے جو سیکولر ازم،لبرل ازم ، جمہوریت اور انسان شارع ہے جیسے مغربی افکار کی ترویج کے ذریعے مسلمانوں کو ان  کے عقیدے سے جدا کرسکے۔ اس مقصدکی بنیادیں برطانیہ نے اس وقت رکھی تھیں جب وہ ہم پر قابض تھا اور آج اس کی نگرانی امریکہ،یورپ اور استعماری ادارے جیسا کہ عالمی بینک وغیرہ کرتے ہیں۔ 

 

یہی وقت ہے کہ ہم کھڑے ہوں اور مغرب کے دھوکے باز سیکولر منصوبوں کو روکیں۔ مسلمانوں  کونبوت کے طریقے پر خلافت کے قیام کی جدوجہد کرنی چاہیے جب مسلمانوں نے تعلیمی میدان میں شاندار ترقی کی تھی اور سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں اپنے عقیدے پر کسی بھی قسم کی مصالحت اختیار کیے بغیر  شاندار خدمات انجام دیں تھیں۔  خلافت کی واپسی  امت کو پستی کے گھڑے سے نکالے گی اور وہ تعلیم کے شعبےمیں ایک بار پھر مثال بن جائے گی جیسا کہ صدیوں تک اس سے پہلے رہی ہے۔ حزب التحریر نے مقدمہ دستور کی شق 179 میں یہ تبنی کی ہے کہ، " جس کام کے بغیر کوئی واجب ادا نہیں ہوتا، وہ کام بھی واجب ہوتا ہے۔ لائبریریاں، لیبارٹریاں اور علم حاصل کرنے کے دوسرے تمام وسائل کا تعلق امت کی دیکھ بھال سے ہےجو خلیفہ پر فرض ہے اور وہ اس کا ذمہ دار ہے۔ اگر اس میں کوتاہی کرے گا تو اس کا احتساب ہوگا"۔ خلافت شرعی احکامات کے مطابق محاصل کا نظام قائم کرے گی تا کہ تعلیمی شعبے میں ترقی کی رفتار کو تیز کرنے کے وسائل مہیا ہوسکیں۔ خلافت عوامی اثاثوں ، جیسا کہ بجلی،گیس، معدنیات، اور سرکاری اداروں  جیساکہ بھاری صنعتوں، ٹیلی کمیونی کیشن، سے بڑی مقدار میں مالی وسائل پیدا کرے گی۔ خلافت استعماری ممالک اور اداروں سے حاصل کیے گئے سودی قرضوں کی ادائیگی سے انکار کردے گی جو کہ  اس وقت پاکستان کے اخراجات کا ایک تہائی حصہ ہے۔ اور اگر یہ سب کچھ بھی اس فرض کی ادائیگی کے لیے ناکافی ہوا تو وہ امرا پر ٹیکس لگا کر اس شعبے میں خرچ کرے گی تا کہ معاشرے کی تعلیمی ضروریا ت کو پورا کیا جاسکے۔      

     

نبوت کے طریقے پرقائم خلافت نہ تو قومی اور نہ ہی فرقہ پرست ریاست ہوتی ہے

16جولائی 2018 کو پاکستان اور ایران نے اپنے درمیان فوجی تعاون کو مزید مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ سینئر ترین ایرانی کمانڈر کے تین روزہ دورے کو بہت اہمیت دی جارہی ہے کیونکہ  پاکستان اور ایران کے درمیان فوجی وفود کا تبادلہ باہمی عدم اعتماد  کی وجہ سے بہت ہی کم رہا ہے۔ جنرل باغیری نے اپنے تین روزہ دورے  کا آغاز نگران وزیر خارجہ عبداللہ ہارون سے وزارت خارجہ  میں ملا قات سے کیا  اور پھر اس کے بعد وہ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ سے ملا قات کے لیے جنرل ہیڈکواٹر (جی ایچ کیو)  گئے۔ آئی ایس پی آر نے بتایا کہ جنرل باجوہ نے فوجی تعاون  میں گرم جوشی پرزور دیا اور کہا کہ "اس قسم کا تعاون خطے کے امن اور سیکیورٹی پر مثبت اثر ڈالے گا"۔ 

 

پوری مسلم دنیا میں مسلم  ممالک کے درمیان  سرحدوں پر کشیدگی  ایک معمول کا عمل بن گیا ہے،چاہے جنوبی ایشیا ہو یا وسطی ایشیا، مشر ق وسطی ہو یا شمالی افریقہ۔  اس صورتحال کی بنیادیں انسانی قانون، 1916 کےسکائیز-پیکوٹ کے معاہدے، سے نکلتی ہیں جس نے مسلم علا قوں کو قومی ریاستوںمیں تقسیم کردیا ۔ یہ معاہدہ 1924 میں تمام مسلمانوں کی ریاست خلافت کے خاتمے  کے عمل کو مکمل کرنے کی شروعات تھا۔  یہی وہ تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی ہے جس نے تمام رنگ و نسل کے مسلمانوں کو ایک ہو کر  اپنے دشمنوں کا موثر طور پر سامنا کرنے سے روک رکھا ہے اور اس کی جگہ وہ ایک دوسرے  کے خلاف برسر پیکار رہتے ہیں۔ نبوت کے طریقے پر خلافت، چاہے وہ پہلے ترکی یا مصر یا پاکستان یا کسی بھی اور جگہ پر قائم ہو  ، مسلمانوں کے درمیان قائم سرحدوں، قومی ریاستوں اوراس صورتحال کو ختم کرنے کے لیے کام کرے گی۔ خلافت ایک غیر قومی اور فر قہ پرستی سے بالاتر ریاست ہوتی ہے جوتمام مسلمانوں کی قیادت ہوتی ہے اور وہ تمام مسلم علا قو ں کو عملاً یکجاا ور انہیں ایک امیر تلے وحدت بخشنے کے لیے کام کرے گی۔ لہٰذا خلیفہ موجودہ مسلم ریاستوں کو اس نظر سے دیکھے گا کہ انہیں ایک ریاست میں یکجا کر کے وحدت بخشنی ہے کیونکہ خلافت تمام مسلمانوں کی واحد ریاست ہوتی ہے اور امت اسلام کے نفاذ کے لیے خلیفہ کا احتساب کرے گی۔  خلافت کے قیام کے فوراً بعد خلیفہ وسائل سے مالامال اس امت  کے درمیان قائم سرحدوں کے خاتمے، ایک فوج، ایک بیت المال اور ایک شہریت  کے لیے کام شروع کردے گا۔ اور حزب التحریر،  جو کہ خلافت کے قیام کے لیے کام کرنے والی واحد عالمی اسلامی سیاسی جماعت ہے، اس مقصد کے حصول کے لیے خلیفہ کی بھر پور معاونت کرے گی۔ 

حزب التحریر نے مقدمہ دستور کے شق 189 کی ذیلی شق 1 میں یہ تبنی کی ہے کہ، "وہ ریاستیں جو عالم اسلام میں قائم ہیں، ان سب کویہ حیثیت دی جائے گی کہ گویا یہ ایک ہی ریاست کے اندر ہیں۔ اس لیے یہ خارجہ سیاست کے زمرے میں نہیں آتیں۔ بلکہ ان سب کو ایک ریاست میں یکجا  کرنا فرض ہے"۔       

Last modified onجمعہ, 20 جولائی 2018 19:00

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک