الثلاثاء، 05 ربيع الأول 1440| 2018/11/13
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

پاکستان نیوز ہیڈ لائنز24 اگست 2018

 

۔ خلافت مسلم ریاستوں کو ایک ریاست میں یکجا کردے گی اور جارح غیر مسلم ریاستوں سے تعلقات ختم کردے گی

- جمہوریت کرپشن کا کارخانہ ہے 

- جارح ہندو ریاست سے مذاکرات اور تجارت کی خواہش  یہ  ثابت کرتی ہے کہ پی ٹی آئی اور پی ایم ایل-ن ایک ہی سکّے کے دو رخ ہیں

 

تفصیلات:

 

خلافت مسلم ریاستوں کو ایک ریاست میں یکجا کردے گی اور جارح غیر مسلم ریاستوں سے تعلقات ختم کردے گی 

16 اگست 2018 کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے نائب چیرمین شاہ محمود قریشی نے وزیر خارجہ کی حیثیت سے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں زور دیا کہ پاکستان کی نئی خارجہ پالیسی "پاکستان سے شروع ہوکر پاکستان پر ختم ہو گی"۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ "میں افغانستان کے لوگوں کو ٹھوس پیغام دینا جاتا ہوں۔  دونوں ممالک کا مستقبل اور جغرافیہ مشترک ہے، اور ہمیں مل کر کام کرنا ہے اور اپنے لمبے سفر کا آغاز کرنا ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "میرا دوسرا پیغام بھارت کی حکومت کے لیے ہے۔ میں بھارتی وزیر خارجہ کو بتا نا چاہتا ہوں  کہ ہم صرف پڑوسی ہی نہیں ہیں  بلکہ ہم ایٹمی طا قتیں ہیں۔ ہمارے کئی وسائل مشترک ہیں۔۔۔ہمیں مسلسل اور بلا تعطل مذاکرات کی ضرورت ہے۔ ہمارے لیے صرف یہی آگے بڑھنے کاذریعہ ہے"۔   

 

کہنے کو پالیسی  تبدیل ہوئی ہے لیکن اس کے باوجود خارجہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ-ن کے حکومتوں کی طرح پی ٹی آئی کی توجہ  بھی افغانستان اور بھارت کے لیے امریکی منصوبے پر عملدرآمد کروانے پر ہی ہے۔ افغانستان کے حوالےسے امریکہ پاکستان کے حکمرانوں سے یہ چاہتا ہے کہ وہ کہ مغرب کی کٹھ پتلی حکومت کی حمایت کریں تا کہ  کابل حکومت اس قابل ہو کہ امریکہ کی فوجی موجودگی کو یقینی بناسکے۔ بھارت کے حوالے سے امریکہ پاکستان کے حکمرانوں سے یہ چاہتا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے پر توجہ مرکوز رکھیں تا کہ پاکستان علا قے کی ایک بالادست طا قت  کے طور پر  بھارت کے ابھرنے کی راہ میں روکاٹ نہ بن سکے۔ 

 

حقیقی تبدیلی کے لیے یہ ضروری ہے کہ مسلمان جمہوریت سے منہ موڑ لیں۔ انہیں لازمی نبوت کے طریقے پرخلافت کے قیام کی جدوجہد کرنی چاہیے تا کہ موجودہ مسلم  ریاستوں کو ایک طا قتور ریاست میں یکجا کیا جاسکے اور غیر مسلم جارح ریاستوں کے خلاف جنگی حکمت عملی پرمبنی پالیسی اختیار کی جائے۔  خلیفہ موجود ہ مسلم ریاستوں کو اس نظر سے دیکھے گا انہیں یکجا کرنا ہے کیونکہ خلافت تمام مسلمانوں کی ایک واحد ریاست ہو تی ہے اور امت پر لازم ہے کہ وہ اسلام کے نفاذ کے لیے خلیفہ کے مکمل حمایت اور معاونت کرے۔  خلافت کے قیام کے پہلے گھنٹے سے ، خلیفہ  اس وسیع اور وسائل سے مالا مال امت کے  درمیان قائم استعماری سرحدوں کو ختم کرنے کے لیے کام کرے گا،ایک واحدمسلم فوج بنائے گا، ایک واحد بیت المال  بنائے گا  اور اس ریاست میں رہنے والے مختلف رنگ،نسل اورمذہب کے لوگوں کو ایک واحد شہریت فراہم کرنے گا۔  اور خلیفہ جارح غیر مسلم ریاستوں کے خلاف جنگی حکمت عملی اپنائے گا۔ یہ وہ ریاستیں ہیں جنہوں نے مسلم علا قوں پر قبضہ کررکھا ہے یا اسی قسم کے دوسرے جارحانہ طرز عمل اختیار کرتے ہیں۔ خلیفہ امت کے وسائل کو مقبوضہ مسلم علا قوں، جیسا کہ کشمیر اور فلسطین،  کو آزاد کرانے کے لیے استعمال کرے گا  ۔  خلیفہ جارح ریاستوں سے درپیش خطرات کو ختم کرنے کے لیے ان ممالک کے ہماری سرزمین پر موجود اڈوں، سفارت خانوں کو ختم  اور اہلکاروں کو ریاست بدر   کردے گا۔  خلیفہ ان جارح ریاستوں کے ساتھ تمام سیاسی و فوجی تعلقات  ختم کردے گا جو ان تعلقات کو استعمال کرکے سیاسی و فوجی قیادت میں موجوداپنے ایجنٹوں کو  استعمال کرتے ہیں اور ان کے ذریعے نئے ایجنٹ بناتے ہیں۔ اور ماضی کی طرح  خلافت  اس معاملے پر کوئی مصلحت کا مظاہرہ نہیں کرے گی چاہے ان مقاصد کے حصول کے لیے کئی دہائیوں کاانتظار ہی کیوں نہ کرنا پڑے جیسا کہ صلیبیوں کے پنجے سے الا قصی کی آزادی۔

 

جمہوریت کرپشن کا کارخانہ ہے 

22اگست 2018 کو ڈان اخبار نے یہ خبر شائع کی کہ فری اینڈ فئیر الیکشن نیٹ ورک (فافن)  کی رپورٹ کے مطابق  35 قانون سازوں کے خلاف مجرمانہ مقدمات مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔  ان میں سے 18 کا تعلق پی ٹی آئی ، 9 کا پی ایم ایل-ن، 5 کا پی پی پی ، ایک کا ایم کیوایم-پاکستان اور ایک کا تعلق بلوچستان عوامی پارٹی سے ہے جبکہ ایک آزاد حیثیت میں انتخاب جیتا ہے۔  دولت مند اراکین قومی اسمبلی کے متعلق یہ رپورٹ بتاتی ہے 4 ارب پتیوں کا تعلق پی ٹی آئی، دو کا پی ایم ایل-ن ، ایک پی پی پی اور ایک  کا تعلق عوامی نیشنل پارٹی سے ہے۔ 

 

ریاست مدینہ اور خلفائے راشدین کے باتیں کرنے کے باوجود پی ٹی آئی   بھی وہی کچھ کررہی ہے کیونکہ اب بھی نظامِ حکومت جمہوریت ہی ہے۔ نئے حکمران بھی کرپشن کو جڑ سے ختم نہیں کرسکیں گے کیونکہ  جمہوریت خود حکمرانوں اور اسمبلی اراکین کو مغرب سمیت دنیا بھر میں دولت  جمع کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ پاکستان بھی اس حقیقت سے مبرا نہیں ہے ۔ جمہوریت خود ایسے سیاستدان پیدا کرتی ہے جو انتخابات میں کڑوڑوں روپے کی سرمایہ کاری کرتے ہیں  تا کہ اقتدار میں آ کر بھاری صنعتوں ،توانائی اور معدنی وسائل کی نجکاری کے ذریعے  اربوں روپے جمع کیے جاسکیں۔   کرپشن جمہوریت کا اس قدرلازم و ملزوم حصہ ہے کہ نئے حکمرانوں کو اقتدار میں آنے کے لیے کرپٹ سیاستدانوں کو اپنی صفوں میں  "الیکٹیبلز" کے نام پر  شامل کرنا پڑا اگرچہ ان کی سیاست کا محور و مرکز کرپشن کے خلاف کام کرنا ہے۔   4 جولائی 2018 کو عمران خان نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ وہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے اپنی جماعت کی جانب سے کھڑے کیے جانے والے  سات سو سے زائد امیداروں  میں سے ہر ایک کے متعلق یقین دہانی نہیں کراسکتے۔ انہوں نے کہا کہ "آپ انتخابات لڑتے  ہیں تا کہ کامیاب ہوسکیں۔ آپ خود کو اچھا بچہ ثابت کرنے کے لیے انتخابات نہیں لڑتے۔ میں کامیاب ہونا چاہتا ہوں"۔ انہوں نے مزید کہاتھا کہ، " یہاں پرجو سیاسی طبقہ ہے اس میں زیادہ تبدیلی نہیں ہو تی۔ آپ کچھ نئے کردار متعارف کراسکتے ہیں لیکن آپ پورے کے پورے سیاسی طبقے کو تبدیل نہیں کرسکتے"۔ 

 

صرف نبوت کے طریقے پرخلافت ہی کرپشن کا خاتمہ کرے گی۔ جو حکمران ہوتا ہے اسے اس بات کی اجازت نہیں ہوتی کہ وہ کسی بھی قسم کی تجارتی، معاشی و مالیاتی سرگرمیوں میں حصہ لے۔ اسے صرف اس بات کا حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ ماہانہ تنخواہ لے۔ لہٰذا اگر وہ اقتدار کے دوران  دولتمند  ہوجاتا ہے تو اس کا احتساب ہوگا ، اور یہ بات عام ہے کہ حکمران حکومت کی جانب سے لیے جانے والے قرضوں سے اپنی جیبیں بھر کر انتہائی دولتمند بن جاتے ہیں۔    جب عمر ؓ کو کسی گورنر کے متعلق معلوم ہوجاتا کہ اس نے دولت کمائی ہے تو آپؓ اس سے وہ تمام دولت واپس لے لیتے جو اس کی تنخواہ سے  زائد ہوتی۔   آپؓ اپنے گورنروں کی دولت کا  شمار ان کے اقتدار میں آنے سے پہلے کراتے اور پھر اقتدار سے نکل جانے کے بعد بھی ان کی دولت کاشمار کرواتے تھے۔  اور اگر زائد دولت ہوتی تو وہ زائد دولت اس سے لے کر بیت المال میں جمع کروادیتے۔  آپؓ کا یہ عمل  نجی دولت کے حق پر ڈاکہ مارانا نہیں تھا کیونکہ انہوں نے یہ دولت قانونی طریقے سے حاصل نہیں کی ہوتی تھی،کیونکہ اگر کسی شخص کو حکمران بنایا جائے اور وہ اپنے دور اقتدار کے دوران بہت زیادہ دولت مند ہوجائے تو  یہ ثبوت ہی اس دولت کو غیر قانونی ثابت کرنے  اور اسے ضبط کرنے کے لیے کافی ہوتا ہےکیونکہ اس قدر دولت   محدود تنخواہ سے تو جمع نہیں کی جاسکتی ۔  جہاں تک حکومتی افسران کا معاملہ ہے تو ان کا معاملہ حکمرانوں سے الگ ہے۔ حکومتی اہلکاروں کی دولت اس وقت تک ضبط نہیں ہوسکتی  جب تک ثبوت سے یہ ثابت نہ ہوجائے کہ وہ چوری کی گئی ہے یا غیر قانونی طریقے سے جمع کی گئی ہے۔  حکمرانوں اور حکومتی اہلکاروں کی ضبط شدہ غیر قانونی دولت کو ریاست کے خزانے میں جمع کیا جاتا ہے اور اسے قرضے چکانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔  

 

جارح ہندو ریاست سے مذاکرات اور تجارت کی خواہش  یہ  ثابت کرتی ہے کہ

 پی ٹی آئی اور پی ایم ایل-ن ایک ہی سکّے کے دو رخ ہیں 

21اگست  2018 کو وزیر اعظم عمران خان نے دونوں ممالک کے درمیان اختلافات  بشمول مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے بھارت کے ساتھ بات چیت کی اپنی خواہش  کو دہرایا۔ ایک ٹویٹ میں وزیر اعظم نے کہا غربت کے خاتمے اور برصغیر  کے لوگوں کی خوشحالی کا بہترین طریقہ بات چیت اور تجارت کو شروع کرنا ہے"۔ 

 

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کی نئی حکومت نے اب تک اس بات کو ثابت کیا ہے کہ بھارت کے حوالے سے اس کی پالیسی پاکستان مسلم لیگ-ن کی "کرپٹ" حکومت سے مختلف نہیں ہے جس پر پی ٹی آئی بھارت کے مفادات کاتحفظ  کرنے کا الزام لگاتی تھی۔ بھارت سے بات کی خواہش اس قدر زبردست ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کے نئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مودی کے جانب سے عمران خان کو مبار ک باد کے خط سے یہ بات خود سےاخذ کرلی کہ اس میں بات چیت کو دوبارہ شروع کرنے کی خواہش کااظہار بھی کیا گیا ہے۔ لیکن یہ نتیجہ اخذ کرنے کی صرف چند ہی گھنٹوں بعد بھارتی حکومت نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ مودی کا عمران خان کو لکھے گئے خط کا مقصد صرف مبارک باد دینا تھا۔ 

 

2013 کی انتخابی مہم کے دوران سابق وزیر اعظم نواز شریف نے بھارت کے حوالے سے اپنی پالیسی پرکوئی خاص بات نہیں کی تھی۔ لیکن جب وہ انتخابات جیت کر اقتدار میں آئے تو یہ کہنے لگے کہ  انہیں بھارت کے ساتھ امن  قائم کرنےکامینڈیٹ دیا گیا ہے۔ جہاں تک عمران خان کا تعلق ہے تو انہوں نے 2018 کی انتخابی مہم میں خود کو ایسے پیش کیا کہ جیسے وہ پاکستان کےمفادات  کی حقیقی نگہبان ہیں اور بھارت کے خلاف سخت موقف اپنائیں گے۔ لیکن وزیر اعظم بننے کے بعد قوم سے اپنے پہلے خطاب میں انہوں نے بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باونڈری پر کی جانی والی مسلسل جارحیت ، مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر مظالم  اور گرفتار بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے حوالے سے کوئی بات ہی نہیں کی۔  لہٰذا جب بھارت کے خلاف پاکستان کے کردار کے حوالے سے معاملہ آتا ہے تو پی ٹی آئی اور پی ایم ایل-ن ایک ہی سکّے کے دو رخ ثابت ہوتے ہیں۔ 

 

جمہوریت میں سیاستدان انتخابات جیتنے کے لیے اپنے لوگوں سے جھوٹ بولتے ہیں، ان کی آرزوں اور خواہشات سے کھیلتے ہیں  اور پھراقتدار ملنے کے بعد اپنے وعدوں کے برعکس کام کرتے ہیں۔ لہٰذا ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ پی ٹی آئی پاکستان کو ریاست مدینہ جیسا بنانے کے دعوے کررہی ہے لیکن ہندومشرک ریاست کے ساتھ بات چیت اور تجارت کے لیے اس کے سامنے گرتی جارہی ہے اور کمزوری کامظاہرہ کررہی ہے ، اگرچہ مشرکین قریش نے کبھی بھی ریاست مدینہ میں کمزوری کامشاہدہ نہیں کیا اور آخر کار وہ اسلام کی حکومت کے نیچے آگئے۔ ریاست مدینہ کے نمونے پرچلنے والی حکومت کبھی بھی ہندو مشرکین سے تعلقات کونارملائیز  کرنے کے لیے کام نہیں کرے گی کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا ہے،

 

 لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ ٱلنَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ آمَنُواْ ٱلْيَهُودَ وَٱلَّذِينَ أَشْرَكُواْ

"تم دیکھو گے کہ مومنوں کے ساتھ سب سے زیادہ دشمنی کرنے والے یہودی اور مشرک ہیں"(المائدہ:82)۔

جمہوریت میں پاکستان کبھی بھی  ریاست مدینہ جیسی ریاست نہیں بن سکتی  جو بھارت کا مقابلہ کرے اور مقبوضہ کشمیر کو آزاد کرائے۔ صرف نبوت کے طریقے پر خلافت ہی  حقیقی معنوں میں ریاست مدینہ جیسی ہو گی۔ خلافت بھارت کے خلاف جنگی حکمت عملی پرمبنی پالیسی اختیار کرے گی اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے حکم پرعمل کرتے ہوئے خطے کے تمام مسلمانوں کو زبردست جہاد کے لیے تیار کرے گی اور مقبوضہ کشمیر کو آزاد کرائے گی،

 

فَلاَ تَهِنُواْ وَتَدْعُوۤاْ إِلَى ٱلسَّلْمِ وَأَنتُمُ ٱلأَعْلَوْنَ 

"تو تم ہمت نہ ہارو اور (دشمنوں کو) صلح کی طرف نہ بلاؤ۔ اور تم تو غالب ہو۔"(محمد:35)۔    

Last modified onجمعہ, 24 اگست 2018 21:55

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک