الإثنين، 13 صَفر 1440| 2018/10/22
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

پاکستان نیوز ہیڈ لائنز28 ستمبر 2018


۔ سرمایہ دارانہ جمہوری ریاست میں بجٹ سازی: غیر منصفانہ ٹیکسوں میں ہمیشہ اضافہ ہی ہوتا ہے
- جمہوریت کبھی بھی عوام کو بجلی کی قیمتوں کے حوالے سے کوئی آسانی اور سہولت فراہم نہیں کرسکتی
- پاکستان میں پانی کا سر اٹھاتا بحران جمہوری حکمرانوں کی مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہے

تفصیلات:


سرمایہ دارانہ جمہوری ریاست میں بجٹ سازی: غیر منصفانہ ٹیکسوں میں ہمیشہ اضافہ ہی ہوتا ہے


25 ستمبر 2018 کو پی ٹی آئی حکومت کے وزیر اطلاعات فواد چوہدری  نے  قومی اسمبلی میں بجٹ کے حوالے سے بحث کو دوبارہ شروع کرتے ہوئےحزب اختلاف کی جماعتوں کو تنقید  کا نشانہ بنایا اور انہیں پاکستان کے موجودہ معاشی بحران کا ذمہ دار قرار دیا۔  حکمران جماعت  پی ٹی آئی اپنے موجودہ اعمال پر ہونے والی تنقید سے بچنے کے لیے  دوسروں کو موردالزام ٹہرا کر بچ نہیں سکتی۔ آئی ایم ایف سے  بیل آوٹ پروگرام کو حاصل کرنے کے لئے  "تبدیلی" لانےکا دعوی کرنے والی پی ٹی آئی کی حکومت نے بجٹ خسارے کو کم کرنے کے لیےمنی بجٹ میں ایسی تجاویز دیں ہیں جس کے ذریعے ٹیکس  محاصل میں 183 ارب روپے کا اضافہ ہوسکے اور اس کے ساتھ ساتھ ترقیاتی بجٹ میں بھی کمی کی  تجویز دی ہے۔ ماہرین سمجھتے ہیں کہ اگر حکومت  نام نہاد  آخری چارہ گر بین الاقوامی قرض دینے والے ادارے، آئی ایم ایف، کے پاس جاتی ہے تو اس سے بھی زیادہ سخت اقدامات متوقع ہیں۔


اب بھی ویسا ہی غیر منصفانہ ٹیکس کا ڈھانچہ چل رہا ہے جو ہمیشہ سے موجو د ہے۔ پاکستان میں عمومی تاثر یہ ہے  حکومت اپنا زیادہ بوجھ کم آمدنی والے لوگوں پر ڈالتی ہے۔  کم آمدنی والے وید ہولڈنگ ٹیکس اور سیلز ٹیکس دیتے ہیں جس میں ان کی آمدنی کا بڑا حصہ خرچ ہوجاتا ہے۔  حکومت کا اب بھی بہت زیادہ انحصار  بلواستہ ٹیکسوں پر ہے ۔ دو  تہائی ٹیکس بل واستہ  ٹیکسوں کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے۔ تیل کی مصنوعات اور ٹیلی کام کی سہولیات   پر لگنے والا  سیلز ٹیکس  بل واستہ ٹیکسوں کا 50 فیصد ہے۔  اس صورتحال نے ٹیکس نظام  کے جبر میں اضافہ کردیا ہے  اور لوگوں پر غیر منصفانہ اور کمر توڑ ٹیکسوں کا بوجھ بڑھا  دیا ہے۔ ٹیکسوں کا نظام عمومی طور پر ظالمانہ ہے جس کامطلب یہ ہے کہ ایک ٹیکس سب پر نافذ کردیا جاتا ہے اس بات سے قطع نظر کہ ایک فرد کی آمدنی کتنی ہے۔  بلواستہ ٹیکسوں کا ایک بڑا حصہ  وید ہولڈنگ ٹیکس کی صورت میں جمع کیا جاتا ہے جو کہ تنخواہ دار طبقے کی تنخواوں سے کاٹ لیا جاتا ہے۔ وید ہولڈنگ کے بہت زیادہ استعمال نے ٹیکس کے نظام کومزید ظالمانہ بنا دیا ہے۔


ٹیکس کے قوانین  میں ہونے والی روز روز کی تبدیلیوں نے بھی ٹیکس کے نظام کو بہت زیادہ خراب کردیا ہے۔ یہ تبدیلیاں کچھ مخصوس گروپس اور مافیا کو تحفظ دینے یا فائدہ پہنچانے  کےلیے کیں جاتی ہیں۔   جن طبقات کوفائدہ پہنچانے کے لیے ٹیکس قوانین میں تبدیلی کی جاتی ہے ان کے عموماً حکمرانوں سے تعلقات ہوتے ہیں یا حکمرانوں کے ان سے مفادات وابستہ ہوتے ہیں۔ آج اکثر کاروبار ی گروپس کے پاس بہت بڑی تعداد میں زمینیں بنجر علاقوں میں ہیں۔ ٹیکس گوشواروں میں وہ اپنے منافع کو  کاروبار سے حاصل ہونے والی آمدنی کے طور پر نہیں بلکہ  زراعت سے حاصل ہونے والی آمدنی کے طور پر دیکھاتے ہیں کیو نکہ قانونی طور پر زرعی آمدنی پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔ اس کے نتیجے میں ٹیکس کا پھیلاؤ بہت کم ہوگیا ہے جس کی وجہ سے  کوشش  کے باوجود  کم ٹیکس جمع ہوتا ہے۔  اس صورتحال کی وجہ سے نظام کی  شفافیت اور انصاف پر سوال اٹھتے ہیں۔ جب دوسرے ممالک سے تقابلی جائزہ لیا جاتا ہے تو ماہرین یہ بتاتے ہیں کہ پاکستان میں دوسرے ممالک کے مقابلے میں ٹیکس گوشوارے جمع کروانے والے افراد کی تعداد انتہائی کم ہے۔ لوگ ٹیکس سے بچنے کی کوشش اس لیے کرتے ہیں کیونکہ انہیں ٹیکس انتظامیہ پر اعتبار نہیں ہوتا۔ لوگوں کو یہ نظر آتا ہے کہ ان کے ٹیکس کے پیسے صحیح جگہ خرچ نہیں کیے جاتے یعنی کہ ان پر خرچ نہیں کیے جاتے۔ لہٰذا انہیں کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ آخر کیوں وہ ٹیکس گوشوارے جمع کروائیں۔  نظام میں شفافیت اور احتساب کی شدید کمی ہے جس کی وجہ سے لوگ خود سے یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا ان کے پیسے ان کےمفاد میں خرچ کیے جاتے ہیں یا چند مفاد پرست لوگوں کی جیبوں میں چلے جاتے ہیں۔


اسلام ریاست کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ جس طرح چاہے لوگوں پر ٹیکس لاگو کرے کیونکہ  اسلام نے بغیر شرعی جواز کے کسی کے مال میں سے مال لینے کو سخت گناہ قرار دیا ہے۔ ایک فرد کی زندگی، عزت اور مال کی حرمت کو قرآن و سنت نے انتہائی مقدس قرار دیا ہے۔  لیکن  وہ منصوبے جن کی غیر موجودگی کی وجہ سے امت کو نقصان پہنچتا ہے یا پہنچ سکتا ہے تو ان کو کھڑا کرنا ریاست کے خزانے اور مسلمانوں پر فرض ہے جیسا کہ سڑک کی تعمیر جوموجود ہی نہیں ہے، اسپتال، اسکول اور اس جیسے دیگر منصوبوں پرخرچ کرنا ریاست اور مسلمانوں پرفرض ہے۔  اگر ان منصوبوں پر خرچ کرنے کے لیے رقم خزانے میں موجود ہے  تو یہ رقم ان منصوبوں پر خرچ کی جائے گی  اور اگر خزانے میں رقم موجود نہیں ہے تو اس فرض کو پورا کرنے کے لیے دولت مند مسلمانوں پر ٹیکس لاگو کیا جائے گا جو ان کی اس دولت میں سے لیاجائے گا جو ان کی بنیادی ضروریات اور ان کے طرز زندگی کو برقرار رکھنے کے بعد بچ جاتی ہوں۔  یہ فنڈز قرآن و سنت کے دلائل کی بنیاد پر لیے جاتےہیں۔


شریعت نے لوگوں کے امور کی دیکھ بحال کے لیے درکار رقم کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ریاست کے محصولات  کو ہمیشہ کے لیے طے کردیاہوا ہے۔ یہ محصولات ہیں: مالِ فے، جزیہ، رکاز، خراج، عشر، زکوۃ اور عوامی ملکیت سے حاصل ہونے والی دولت۔ سرمایہ دارانہ نظام کے برخلاف اسلام نے معدنی وسائل (سونا،چاندی، کوئلہ وغیرہ) کی نجی ملکیت کی ممانعت فرمائی ہے اور انہیں عوامی ملکیت قرار دیا ہے یعنی پوری امت ان کی مالک  ہوتی ہے اور اسلام ریاست پر لازم کرتا ہے  کہ ان سے حاصل ہونے والی دولت کو امت کے اجتماعی مفادات پر خرچ کیا جائے۔  ان زبردست محصولات کے ذرائع کی موجودگی میں کوئی بھی اضافی ٹیکس وقتی ہوتا ہے۔    

         

جمہوریت کبھی بھی عوام کو بجلی کی قیمتوں کے حوالے سے کوئی آسانی اور سہولت فراہم نہیں کرسکتی


24ستمبر 2018 کو ڈان اخبار نے یہ خبر دی کہ گیس کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پی ٹی آئی کی حکومت بجلی کی قیمت میں دو روپے فی یونٹ اضافے کی تجویز پر غور کررہی ہے تا کہ بڑھتے ہوئے گردشی قرضے کوکم کیا جاسکے۔  کابینہ کی اکنامک کارڈینیشن کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس منگل کو بلایا گیا ہے تا کہ دوسرے معاملات کے ساتھ ساتھ بجلی کی قیمت کے مسئلے کو بھی دیکھا جائے۔


یہ بات قابل ذکر ہے کہ پچھلی دو دہائیوں میں بجلی کی قیمتوں میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق  اس تمام عرصے میں بجلی کی قیمت میں 350 فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔ ایک عام گھریلو صارف کو ،جوماہانہ  300 یونٹ بجلی کے استعمال کرتا ہے، تقریباً 12 روپے فی یونٹ  بجلی اس و قت میسر ہے جو کہ 2003 میں صرف 2.29روپے فی یونٹ تھی۔  بجلی کی قیمت میں اضافے کی وجہ  1990 کی دہائی میں انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز  کو بجلی کے پیداواری شعبے میں داخل کرانےکے لیے کی جانے والی قانون سازی کو قرار دیا جاتا ہے کیونکہ اس کے ذریعے ایسا نظام بنایا گیا کہ بجلی کے پیداواری یونٹس کے نجی مالکان کو ہر صورت منافع ملے گا۔ اس قانون سازی نے اس بات کو یقینی بنایا  کہ ایک یونٹ بجلی  کی قیمت میں لائن لاسز اور قرضوں پر ادا کیا جانے والا سود بھی شامل ہوگا۔اس کے علاوہ جب حکومت ان نجی پیداواری یونٹس سے بجلی نہیں بھی لے گی تب بھی ان کو  آئیڈل کیپیسیٹی پےمنٹ کے نام پر بجلی کی قیمت ادا کرنے کی پابند ہو گی۔ ان ا قدامات کے نتیجے میں بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اس قدر اضافہ ہوگیا کہ حکومت نے اس کی مکمل قیمت صارفین پرمنتقل نہیں کی کیونکہ اس کے نتیجے میں انہیں سیاسی نقصان پہنچتا۔ اس کے علاوہ بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے بدترین گردشی قرضے کا مسئلہ پیدا ہوگیا  جو اب 1100 ارب روپے تک پہنچ گیاہے۔ ایک طرف تو عام آدمی بجلی کے بلوں کے بوجھ تلے دبتا چلاجارہا ہے تو دوسری جانب حکومت نجی پیداواری یونٹس کے مالکان کی جیبین عوامی دولت سے بھر رہی ہیں۔ اس صورتحال کا ثبوت پاکستان کی سب سے بڑی بجلی کے نجی پیداواری کمپنی حبکو کی بیلنس شیٹ ہے جس کے مطابق  مالیاتی سال 2018 میں اس نے 11.67ارب روپے کامنافع کمایا ۔ اسی طرح کے -الیکٹرک ( سابق کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن)  ،جس کے زیادہ تر شیئرز اب نجی مالکان کے پاس ہیں، نے 2017 میں 32 ارب روپے کے منافع کا اعلان کیا تھا۔ صورتحال اس قدر خراب ہوچکی ہے  نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا)  نے اپنی رپورٹ "2017 میں انڈسٹری کی صورتحال پر رپورٹ " میں انکشاف کیا ہے کہ نئے پاور پلانٹس کی وجہ سے عوام پر اضافی بوجھ پڑھ رہا ہے کیونکہ بند پڑے پلانٹس کو سالانہ 130 ارب روپے دیے جارہے ہیں۔ اس رپورٹ میں مزید یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاور پلانٹس کی مجموعی پیداواری صلاحیت 28 ہزار میگاواٹ تک پہنچ گئی ہےلیکن جو بجلی فراہم کی جاتی ہے وہ پیداواری صلاحیت سے کہیں زیادہ کم ہوتی ہے۔ لیکن کیپیسیٹی پے منٹس جو 16-2015 میں 280 ارب روپے تھیں  وہ 17-2016 میں 350 ارب روپے تک پہنچ گئی تھیں اور 18-2017 کے مالیاتی سال میں یہ 490 ارب روپے تک  پہنچ جائے گی۔


      لہٰذا پی ٹی آئی کی حکومت  بھی ماضی کی "کرپٹ" حکومتوں کی طرح عام آدمی پر ہی بوجھ بڑھا رہی ہے جبکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ عوامی ضرورت کی اس چیز سے چند لوگوں کو اربوں روپے کا منافع حاصل کرنے سے روکا جائے۔ اسلام نے عوامی ضرورت کی اس قدر اہم چیز کو چند لوگوں کے ہاتھوں میں دینے سے منع فرمایا ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا،

«الْمُسْلِمُونَ شُرَكَاءُ فِي ثَلَاثٍ الْمَاءِ وَالْكَلَإِ وَالنَّارِ»

"مسلمان تین چیزوں میں شریک ہیں: پانی، چراہگاہیں اور آگ"(ابن ماجہ نے ابو ہریرہ ؓ سے روایت کی)۔ 

اس حدیث میں ایک قانونی دلیل ہے جس کی  وجہ سے بجلی کے پیداواری یونٹس نجی ملکیت میں نہیں لگ سکتے اور وہ یہ کہ بجلی کے پیداواری یونٹس عوامی ملکیت  میں آتے ہیں۔ لہٰذا فقہا نے ان تمام اشیا کو جو آگ  کا باعث بنتی ہیں جیساکے توانائی کے وسائل چاہے وہ بجلی ہو یا گیس یا تیل کی مصنوعات،انہیں عوامی ملکیت قرار دیا ہے اور ان کی نجی مالکیت اسلام میں حرام ہے۔ لہٰذا صرف اسلام کی بنیاد پر ہونے والی حکمرانی ہی سرمایہ دارانہ معیشت کا خاتمہ کرکے اسلامی معیشت کو قائم کرے گی۔  اسلامی نظام دولت کی تقسیم  کو یقینی بناتا ہے اور اس مقصد کو حاصل کرنے کا ایک طریقہ بجلی کے وسائل کے ساتھ ساتھ کوئلہ، گیس اور تیل کے ذخائر  کی عوامی ملکیت  ہونا    ہے۔  ان وسائل  کی مالک نہ تو حکومت بن سکتی ہے اور نہ ہی کوئی فرد یا گروہ، بلکہ ریاست ان وسائل کی دیکھ بھال کرتی ہے  اور اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ ان سے حاصل ہونے والے فوائد سے ریاست کے تمام شہری  بغیر کسی رنگ، نسل اور مذہب کی تفریق  کےمستفید ہوں۔ اس کے علاوہ ریاستِ خلافت بجلی اور تیل وگیس پر عائد ٹیکسوں کا خاتمہ کردے گی جنہوں نے قیمتوں کومزید بڑھا دیا ہوا ہے۔  ریاست پیداواری  اور تقسیم کرنے کی لاگت  عوام سے لے گی وہ بھی اگر اس کی ضرورت ہو۔ خلافت بجلی، تیل و گیس کی زائد پیداوار کو غیر جارح غیر مسلم ممالک  کو فروخت کرے گی اور اس سے حاصل ہونے والے فنڈز کو عوامی ضروریات پر خرچ کرے گی ۔ لہٰذا اسلام کی بجلی کی پالیسی پاکستان میں صنعتی انقلاب لانے کاباعث بنے گی۔

 

پاکستان میں پانی کا سر اٹھاتا بحران جمہوری حکمرانوں کی مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہے


انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا)نے پارلیمانی پینل کو بتایا کہ آنے والے ربی کی فصلوں کی کاشت کے موسم میں  پاکستان کو زبردست پانی کی کمی کاسامنا ہوگا۔ارسا کے مطابق پاکستان کو فصلوں کی کاشت کے لیے 50 فیصد سے بھی کم پانی میسر ہوگا۔ ارسا کے حکام نے پانی کے وسائل پر سینٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی ، جس کی سربراہی سینیٹر شمیم آفریدی کررہے تھے، کو 24 ستمبر 2018 بروز پیر بتایا کہ ارسا کی مشاورتی کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا ہے تا کہ ربی کی فصلوں کے لیے درکار پانی کی ضروریات کا تخمینہ لگایا جاسکے۔


پچھلی تقریباً تین دہائیوں سے پاکستان کے مسلمان یہ سنتے آرہے ہیں کہ زراعت، صنعتوں اور گھریلو صارفین کے لیے پانی پورا نہیں پڑرہا۔ اس مسئلے کے پیچھے بنیادی وجوہات پانی کوذخیرہ  کرنے کی ناکافی سہولیات، پانی کا ضائع اور معیشت  کےہر شعبے اور معاشرتی زندگی میں پانی کا غیر موثر استعمال ہے۔ دیامر بھاشاڈیم پر  واٹر اور اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کے مشیر  ڈاکٹر اظہار الحق  کے مطابق  ملک میں ایک فرد کے لیے سالانہ پانی  کی دستیابی  942 کیوبک میٹرز تک گر گئی ہے اور جن ممالک میں یہ 1000 کیوبک میٹر سالانہ سے کم ہوجائے تو اس ملک کا شمار پانی کے حوالے سے دباؤ کے شکار ممالک میں ہونے لگتا ہے۔ پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز، جو کہ ایک حکومتی ادارہ ہے،  نے دعوی کیا ہے کہ ملک کا شمار 2005میں پانی کی کمی کے شکار ممالک میں ہونے لگا تھا جبکہ 1990 میں پاکستان نے پانی کے حوالے سے دباؤ کی حد پار کرلی تھی۔


     لیکن کئی ماہرین کی جانب سے خبردار کیے جانے کے باوجود کسی بھی حکمران نے آنے والے  اس بحران کو سر اٹھانے سے قبل ہی حل کرنے کے لیے کوئی موثر قدم نہیں اٹھایا۔  اب جبکہ یہ خطرہ سر پر آپہنچا ہے تو ہر ایک بڑے ڈیم بنانے کی بات کررہا ہے جس کو بنانے میں بہت زیادہ لاگت آتی ہے اور ساتھ ہی اس کی تعمیر میں وقت بھی بہت لگتا ہے۔ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ نئی حکومت نے بھی کوئی سنجیدہ اور تفصیلی بحث اس مسئلے کے حوالے سے شروع نہیں کی تا کہ اس بحران کی وجوہات کو جانا جاسکےاور یہ بھی جانا جاسکے کہ اس بحران سے کیسے نکلا جاسکتا ہے۔ بلکہ نئی حکومت بھی   بغیر کچھ سوچے سمجھے بڑے ڈیم بنانے کی بات کررہی ہے اور اس کے لیے چندہ وصول کررہی ہے جس کا آغاز چیف جسٹس آف پاکستان نے کیا تھا۔ اس بات کے قومی امکانات ہیں کہ اتنا پیسہ لگا کر بڑے ڈیم بن جانے کے بعد بھی پانی کا بحران ختم نہیں ہوگا  کیونکہ اس مسئلے کے حوالے سے کوئی تفصیلی ریسرچ ہی نہیں ہوئی ہے۔  ایسے شواہد موجود ہیں کہ اگر پاکستان اپنے موجودہ آبپاشی کے نظام کوجدید خطوط پر استوار کر لے  تو وہ اپنی ضرورت سے زائد خوارک صرف 50 ملین ایکڑ فٹ(ایم اے ایف) پانی سے پیدا کرسکتا ہے جبکہ اس وقت اس مقصد کے لیے 104   ایم اے ایف استعمال کیا جاتا ہے ۔  پاکستان کازرعی آبپاشی کا نظام دنیا میں سب سے زیادہ پانی ضائع کرنے والا نظام ہے۔ پاکستان کے مقابلے میں اتنے ہی پانی سے  کیلیفورنیا  50 فیصد اور یہاں تک کہ بھارت میں مشرقی پنجاب 30 فیصد زیادہ خوراک پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح اگر ہم زراعت، صنعت اور گھروں میں  پانی کے استعمال کے لیے جدید طریقہ کار استعمال کریں  تو جو پانی ابھی موجود ہے وہ ہماری ضروریات سے دوگنا زائد ثابت ہوسکتا ہے۔


نبوت کے طریقے پر آنے والی خلافت  پانی کو ذخیرہ کرنے، اس کے ضیاع کو روکنے اور زراعت، صنعت اور گھروں میں جدید ترین طریقہ کار روشناس کرانے کے لیے تمام اقدامات اٹھائے گی تا کہ پانی ضائع نہ ہو اور زراعت،معیشت اور گھریلو صارفین کے ضرورت کے لیے پانی آسانی سے دستیاب ہو۔  امت کو تعلیمی شعبے اور میڈیا کے ذریعے اس بات سے آگاہ کیا جائے گا کہ پانی کا بہترین استعمال ایک اسلامی ذمہ داری ہے اور اس پر آخرت میں بہت بڑا اجر ہے۔ عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ ،

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِسَعْدٍ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ فَقَالَ مَا هَذَا السَّرَفُ فَقَالَ أَفِي الْوُضُوءِ إِسْرَافٌ قَالَ نَعَمْ وَإِنْ كُنْتَ عَلَى نَهَرٍ جَارٍ

"رسول اللہ ﷺ سعد کے پاس سے گزرے جب وہ وضو کررہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'اتنا پانی کیوں ضائع کررہے ہو؟' سعدؓ نے فرمایا:'کیا وضو کرنے میں بھی پانی ضائع ہوتا ہے؟'۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔'ہاں، یہاں تک کہ اگر تم دریا کے کنارے پر ہی کیوں نہ ہو'"(سنن ابن ماجہ 425)۔   

Last modified onجمعہ, 28 ستمبر 2018 18:53

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک