الإثنين، 11 شوال 1439| 2018/06/25
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

آخر کار امریکہ کے ایجنٹ اردوگان، روحانی اور پیوٹن کے چہرے بے نقاب ہو گئے

  •  یہ شام میں امریکی ایجنٹ کی حکومت کو بچانے کے لئے کارندوں کا کردار ادا کر رہے ہیں
  • تاکہ امریکہ شمالی کوریا اور چین کے بحران پر توجہ دے سکے

 

بدھ 4 اپریل 2018 کو روس، ایران اور ترکی کے صدور انقرہ میں اکھٹے ہوئے اور انہوں نے اپنا اختتامی بیان جاری کیا۔ اس بیان کے ظاہری الفاظ سے  اور جوپیغام اس بیان میں پوشیدہ ہے اُس سے بھی یہ بات واضح ہو گئی  کہ انہوں نے تہیہ کر رکھا ہے کہ وہ ہر صورت شام میں امریکی ایجنٹ کی حکومت کو بچانے اور اسلام کی حکمرانی کے لیے اہلِ شام کی جدوجہد  کو روکنے کی مقدور بھر کوشش کریں گے ۔

 

جہاں تک ترکی کےاردوگان کا تعلق ہےتو اُس نے پہلے بھی دھوکا دیا اور وہ بدستور مکاری کا مظاہرہ کر رہا ہے۔  یہ اردگان ہی تھا جس نے آپریشن درع الفرات(Operation Euphrates Shield) کی طرف جنگجوؤں کو بلایا، یوں حلب کا دفاع کمزور پڑ گیا اور وہ جنگجوؤں کے ہاتھ سے نکل گیا اور اُس پر  بشارحکومت کا قبضہ ہو گیا ۔اس کے بعد آپریشنغصن الزیتون(Operation Olive Branch) میں اردگان جنگجوؤں کو عفرین لے گیا جس سے جنوبی اِدلب اور پھر مشرقی غوطہ جنگجوؤں کے ہاتھ سے نکل گئے۔اردگان نے شیلڈز (Sheilds) اور برانچز (Branches)کے نام پر مزید منصوبے تیار کرر کھے ہیں، یوں اب وہ جنگجوؤں کو اِدلب میں جمع کرر ہا ہے ، پھر ان کو کسی اور محاذ کی طرف لے جائے گاتاکہ  ادلب بھی ضائع ہو جائے!

 

جہاں تک ایران کے روحانی-خامنئی کا تعلق ہے تو ان کی ملیشیا شام کے پہاڑوں اور میدانوں میں دندناتی پھر رہی ہیں جس میں ایرانی نیشل گارڈ، لبنانی تنظیم اور دنیا جہان کی عسکری ملیشیاشامل  ہیں۔ یہ سب شام کے سرکش حکمران کو بچانے کے لیے وسیع پیمانے پرقتلِ عام کررہی ہیں۔

 

جہاں تک پیوٹن کا تعلق ہے تو اُس کی قتل وغارت گری کے جرائم سب کو نظر آرہے ہیں اور اُسے  اردوگان یا روحانی-خامنئی  کی طرح مکاری اور بہانہ بازی کی ضرورت ہی نہیں۔ اِن دونوںکو مکاری اور دھوکہ بازی اس وجہ سے کرنا پڑ رہی ہے کیونکہ یہ چلا چلا کر اپنی مسلمانی کا دعوی کر تے ہیں! جبکہ پیو ٹن کو اس کی ضرورت نہیں کیونکہ  وہ تو اسلام اور مسلمانوں کا کھلا دشمن ہے۔

 

یہ تینوں شام میں امریکہ کے ایجنٹ کی سیکولر حکومت کو بچانے میں مصروف ہیں۔ یہ شام میں جرائم اور قتل وغارت میں اپنی پوری طاقت صَرف کر رہے ہیں بلکہ اپنی حیثیت سے بڑھ کر طاقت استعمال کر رہے ہیں! وہ جانتے ہیں کہ یہ حکومت امریکی اثرمیں ہے اور وہ اس حکومت کو بچانے کے لئے  امریکہ کے کارندوں کے طور پر کام کر رہے ہیں تاکہ امریکہ کو مشرقی ایشیاء میں شمالی کوریا اور چین کے بحران سے نمٹنے کا موقع فراہم کریں ۔۔۔اگر ان کے پاس عقل ہوتی تو یہ اس کے برعکس راستہ اختیار کرتے مگر شیطان اپنے پیروکاروں پرمضبوط غلبہ رکھتا ہے!

 

یہ تینوں مجرمین ہوں  یا ان کا پشت پناہ امریکہ ہو ، یہ اپنی تمام ترمجرمانہ کوششوں کے باوجوداپنے پاؤں نہیں جما سکتے تھے اگر وہ مزاحمت کارگروپ ان کی پیروی نہ کرتے جنہوں نے وعدوں اور دھمکیوں  کی پالیسی کی وجہ سے  اور ناپاک پیسے کی وجہ سے ان کی پیروی کی۔ ۔۔ جی ہاں!اگر وہ ایسا نہ کرتے تو ان مجرموں کے لیے اپنے پاؤں جمانا ممکن نہ ہوتا۔۔۔ اگرچہ حزب التحریر نے ان گروپوں کو بیدار کرنے کی بھر پور کوشش کی اور جو کچھ ہو رہا ہے اس کے بارے میں ان کی آنکھیں کھولنے میں کوئی کسر اٹھانہ رکھی مگر انہوں نے مال اور اسلحے کی ضرورت کو اِن کی پیروی کرنے کے لئے بہانہ بنایا اور یہ  کہ حزب کے پاس یہ سب کچھ نہیں ہے بلکہ وہ صرف ان کو نصیحت ہی  کرتی ہے۔۔۔ وہ کہتے ہیں کہ اسلحے کی جنگ میں یہ نصیحت ان کے کسی کام کی نہیں! وہ یہ سمجھ ہی نہ سکے کہ یہ ہتھیار دو دھاری تلوار کی طرح ہیں ۔ اگر یہ ایک باشعور شخص کے ہاتھ میں ہوں تو یہ  دشمن کے شر سے بچاؤ کے لیے ڈھال ہیں اور دشمن کو شکست دینے کا مضبوط ذریعہ ہیں۔۔۔اور اگریہ ہتھیار دھوکے کا شکار ہونے والے اور مجرموں کی پیروی کرنے والے شخص کے ہاتھ میں ہوں توپھر یہ ہتھیار کسی کام کے نہیں ،یہ اپنی ہی  تباہی کا باعث بنتے ہیں اور دشمن سے پہلے خود کو زخمی کرتے ہیں!

 

جن گروہوں نے ہماری تنبیہہ کو نظر انداز کیا اور ہماری راہنمائی کو پس پشت ڈال دیا۔۔۔جو کہتے تھے کہ باتوں سے جنگ میں کچھ نہیں ہوتا اور انہیں تو  مال اور اسلحہ چاہیے ۔ اور انہوں نے یہ مال اور اسلحہ مسلمانوں سے خیانت کرنے والے ترکوں،عربوں اور اہلِ فارس سے حاصل کیا، بلکہ ان میں سے بعض نے تو مجرم روسیوں اور امریکیوں پر انحصار کیا ،اس گمان کے تحت کہ ان مجرموں کا ناپاک مال انہیں شام کے لیے لڑنے سے روکتا تو نہیں ہے۔۔۔ان سے ہم کہتے ہیں: اب تم اپنے افعال اور اعمال کا نتیجہ دیکھ لو، اب تم خوداپنی ہی سرزمین اور گھروں سے بے دخل کر دیے گئے ہو اور اپنے بچوں سے دور کردئیے گئےہو!

 

تاہم اس سب کے باوجود یہ امت شکست نہیں کھائے گی بلکہ اللہ کے اِذن سے یہ دن ضرور  بدلیں گے۔  یہ امت اس سے بھی زیادہ سخت آزمائشوں سے گزر چکی ہے ، اس امت پر صلیبی اور تاتاری آفت کی مانند ٹوٹ پڑے، مگر پھر بھی یہ امت دوبارہ اٹھی اور انہیں اکھاڑ پھینکا ۔ اس امت نے نشاۃِ ثانیہ حاصل کی اور دوبارہ دنیا کی قیادت سنبھال لی ۔۔۔یہ درست ہے کہ اُن دِنوں خلافت کی شکل میں اسلام کی حکمرانی موجود تھی اگرچہ خلافت کمزور ہو چکی تھی لیکن امت کے پاس ایسا قائد موجود تھا جس نے دشمن سے قتال کے لیے امت کی شیرازہ بندی کی، حق کا علم بلند کیا اور باطل کو مٹادیا، اور یوں امت نے دشمن کو شکستِ فاش دی اور دوبارہ بلندی حاصل کر لی ۔۔۔آج  اسلام کی وہ حکمرانی موجود نہیں، وہ خلافت موجود نہیں تو پھر کون مسلمانوں کی شیرازہ بندی کرے گا؟ کوئی کہنے والا یہ کہہ سکتا ہے، اورایسا کہنا  حقیقتِ حال کے مطابق بھی ہے مگر اللہ کے اذن سے خلافت کےدوبارہ قیام لیے  بھر پور قوت سے کام جاری ہے اور خلافت مسلمانوں کے تمام علاقوں میں امت کا بنیادی مطالبہ بن چکی ہے۔  مسلمان اپنے  قول وعمل سے یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ خلافت کے متمنی ہیں۔ وہ 26، 27، 28 رجب 1342 کے اُن ایام کو ،جن دنوں میں خلافت کے انہدام کے جرم کاارتکاب کیا گیا تھا ، الٹانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ تاریخ کے ان تاریک اوراق کا خاتمہ کریں اورخلافت کے دوبارہ قیام سے ان اوراق کو منور کردیں، جس کے قیام   کا دن اللہ نے مقرر کیا ہوا  ہے اور یہ اللہ کے لیے کوئی مشکل نہیں۔ اس دن یہ ظالم، خائن اور مجرم جان لیں گے کہ وہ کس کروٹ گرتے ہیں۔

 

اے مسلمانو!

یہ تینوں جنہوں نے شام کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا ہے،یہ کفارا ورمنافقین ،یہ اپنے جرائم اور شام کے مسلمانوں کےقتلِ عام پر خوشیاں نہیں منا سکیں گے بلکہ عذاب ان کووہاں سے آ گھیرے گاجو ان کے وہم وگمان میں بھی نہیں۔ شام ان سے پہلے بھی ان جیسوں کے ذریعے آزمایا گیا مگر وہ ہلاک ہوئے اوراللہ کے اِذن سے  ایسا دوبارہ ہوگا:

 

﴿إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا﴾

"اللہ اپنے امر کو انجام تک پہنچائے گا اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ مقرر کر رکھاہے"۔(سورۃالطلاق :3)

 

آخر میں بیرکوں میں موجود مسلمانوں کی افواج کے لئے ہمارا پیغام یہ ہے : کہ تمہارا معاملہ بھی عجیب ہے،  جب حکمران تمہیں مسلمانوں کے قتل کے لیے متحرک کرتے ہیں توتم فوراً حرکت میں آتے ہو مگر جب مسلمان مدد کے لیے تمہیں پکارتے ہیں تو تم سُستی اور تاخیر کرتے ہو اوران کو بے یارومددگار چھوڑدیتے ہو، بلکہ تم مُردوں جیسی خاموشی اختیار کرلیتے ہو۔ اور تم اپنے سربراہوں کی اطاعت کا بہانہ بناتے ہوحالانکہ اپنے سے اوپر والوں  کی یہ اطاعت دنیا  میں رسوائی اور آخرت کے درد ناک عذاب کا راستہ ہے، اوراس دن یہ اطاعت تمہارے کسی کام نہیں آئی گی چاہے تم اپنے آپ کو بچانے کے لیے کتنے ہی بہانے بناتے رہو:

﴿يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ يَقُولُونَ يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا * وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا﴾ 

"جس دن ان کو اوندھے منہ جہنم میں گرایا جائے گا ،تووہ کہیں گے کاش ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی ، کہیں گے اے اللہ ہم نے تو اپنے سرداروں اور بڑوں کی اطاعت کی  اورانہوں نے ہی ہمیں گمراہ کیا"(سورۃ الاحزاب : 67-68) ۔

 

 

لیکن تمہارے پاس ابھی بھی وقت ہے کہ تم اللہ کے دین کی مدد کرتے ہوئے اپنے کیے کا تدارک کرو اور زمین پر اسلام کی حکمرانی قائم کرو اور ظالموں ، منافقوں اور استعماری کفارسے تعلق منقطع کر دو ،ہو سکتا ہے کہ اس سےتمہارے گناہوں کا کفارہ ہوجائے، اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا:

 

﴿وَإِنِّي لَغَفَّارٌ لِمَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدَى﴾ 

"اور بے شک میں توبہ کرنے والوں اورایمان لا کر نیک عمل کرکے ہدایت کی راہ اختیار کرنے والوں کو خوب معاف کرتا ہوں"(سورۃ طٰہٰ : 82)۔

 

مزید برآں،  ہم عام مسلمانوں سے کہتے  ہیں، کہ آپ اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہو ں، شام شام ہی رہے گا یہ اسلام کا مسکن ہے۔  احمد نے اپنی مسند میں جبیر بن نفیر سے روایت کی ہے کہ سلمۃ بن نفیل نے انہیں بتایا کہ جب وہ نبی ﷺ کےپاس آئے تو نبی ﷺ نے ان سے فرمایا:

 

«أَلَا إِنَّ عُقْرَ دَارِ الْمُؤْمِنِينَ الشَّامُ»

"سنو! شام مومنوں کا مسکن ہے"

 

جبکہ فتن کے بارے میں نعیم بن حماد نے کثیر بن مرہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«عُقْرُ دَارِ الْإِسْلَامِ بِالشَّامِ»

" شام اسلام کا مسکن ہے"۔

 

 اور آخر ی بات یہ کہ حزب التحریر وہ راہنما ہے جو اپنوں سے جھوٹ نہیں بولتی،حزب امت کے ساتھ اور اس کے درمیان سرگرم ہے اور اللہ کے فضل سےحق پر  ثابت قدم ہے  ۔ وہ نہ خود تبدیل ہوئی اور نہ اپنی فکر اور طریقہ تبدیل کرے گی کیونکہ یہ (فکر اور طریقہ )حق پر مبنی ہے۔

 

﴿فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَال﴾

"حق کے بعد گمراہی کے سوا کچھ نہیں"(سورۃ یونس: 32)۔  

 

حزب اللہ اور اپنے دین کی بدولت مضبوط ہے اور اللہ غالب اور حکمت والے کے سامنے گڑگڑا رہی ہے کہ وہ اپنا وعدہ اُس کے ہاتھوں پورا کرے ۔ 

 

﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ﴾

"اللہ نے تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ وعدہ فرمایا ہے جوایمان لائے اور نیک اعمال کئے کہ وہ اُن کو ضرور زمین میں خلافت سے نوازے گا جیسا کہ ان سے پہلے لوگوں کو خلافت سے نوازا تھا"(سورۃ النور: 55)۔  

 

اور اللہ کے اِذن سے رسول اللہ ﷺ کی بشار ت حزب،  اس کے لوگوں اور تمام مسلمانوں کے لیے  سچ ثابت ہو گی۔ابو داؤد طیالسی نے حذیفہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 

 

«... ثُمَّ تَكُونُ جَبْرِيَّةً، فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ»، ثُمَّ سَكَتَ"

"پھر جبر واستبدادکا دورہوگا اور اس وقت تک رہے گا  جب تک اللہ چاہے  گا پھر اللہ اس کو جب چاہے گا اٹھا لے گا، اس کے بعد پھر نبوت کی طرز پر خلافت ہوگی، پھر آپﷺ خاموش ہوگئے"  

 

جبکہ امام احمدنے یہ الفاظ روایت کیے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

 

«... ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا جَبْرِيَّةً، فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةً عَلَى مِنْهَاجِ نُبُوَّةٍ» ثُمَّ سَكَتَ "

"پھر جابرانہ حکومت ہوگی اور اس وقت تک ہوگی جب تک اللہ چاہے گا پھر جب اللہ چاہے گا اس کو اٹھا لے گا  اس کے بعد پھر نبوت کی طرز پر حکومت ہو گی" پھر آپ ﷺخاموش ہوگئے۔

 

             حزب اللہ کی مدد کے وعدے پرمطمئن ہے ۔ یہ مدد صرف انبیاء کے لیے نہیں بلکہ تمام سچے مومنوں کے لیے ہے اور یہ صرف آخرت میں نہیں بلکہ دنیا میں بھی ہے، 

 

﴿إِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ﴾

"یقیناً ہم اپنے رسولوں اور ان لوگوں کی جو ایمان لائے، دنیا میں بھی مدد کریں گے اور اس دن بھی جب گواہ لائے جائیں گے"(غافر : 51)۔

 

اس دن مومنین اللہ کی مدد سے خوش ہوں گے ،اللہ ہی جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے اور مجرموں کو دنیا میں رسوائی اور آخرت میں درد ناک عذاب کا سامنا ہو گا۔اللہ الجبّار ،انتقام لینے والا اور غالب و حکمت والا ہے۔

ہجری تاریخ :18 من رجب 1439هـ
عیسوی تاریخ : جمعرات, 05 اپریل 2018م

حزب التحرير

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک