Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

صرف نبوت کے طریقے پرقائم خلافت ہی مظلوموں کی چیخ و پکار کا ویسا جواب دے گی جیسا کہ اس کا حق ہے

 

میانمار (برما) کی افواج اور بدھ مت کے دہشت گردوں کے ہاتھوں دن دہاڑے روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام اور لاکھوں کی تعداد میں ہجرت پرپاکستا ن کے مسلمان سخت بےچین ہیں اور ہماری طاقتور افواج کو حرکت میں لانے اور میانمار کی حکومت کے ساتھ اسلحے کی فروخت کو ختم کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔  یقیناً پاکستان کے مسلمان رسول اللہ ﷺ کی اِس حدیث کا عملی نمونہ ہیں کہ،

 

 

مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى

“ایمان والوں کی آپس کی محبت، الفت اور احساس کی مثال ایسے ہے جیسے کہ وہ ایک جسم ہوں؛ جب اُس کے کسی ایک حصے میں درد ہوتا ہے تو پورا جسم بے سکونی اور بخار کی وجہ سے اُس درد کومحسوس کرتا ہے”(مسلم)۔

 

جہاں تک جمہوریت کا پرچار کرنے والوں کا تعلق ہے تو انہوں نے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ بہرے ہیں کیونکہ اُن کے کان مظلوموں کی چیخیں نہیں سنتے۔ جب سے روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کی خبریں آنی شرو ع ہوئیں پاکستان کے مسلمان اُن کے قتل عام کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں لیکن قومی اسمبلی اور سینٹ کے اراکین کو خواب غفلت سے جاگنے میں دو ہفتے لگ گئے جب 11 ستمبر 2017 کو بلاآخر وہ جمع ہوئے اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اِس ظلم کے خلاف مذمت میں اپنی آواز بلند کرے۔ مذمت؟؟؟ مذمت تو اُس کی جانب سے قابل قبول ہوتی جو کمزور اور غیر مسلح ہوتا۔مذمت؟؟؟ مذمت کے الفاظ اس ملکِ خداداد ِ پاکستان کی جانب سے جو کہ دنیا کی واحد مسلم ایٹمی قوت ہےاور جس کے پاس دنیا کی ساتویں بڑی فوج اور چھٹی بڑی آرمی ہے۔ مذمت کے الفاظ اس ملکِ خداداد ِ پاکستان کی جانب سے جس کے مسلمان اور ان کی قابل ترین افواج،  اللہ سبحانہ وتعالیٰ ، اس کے رسول ﷺ اور ایمان والوں کے لیے بخوشی اپنی جان اور مال تک لٹا دینے کے لیے تیار ہیں۔ یقیناً اِس قسم کی مذمت کی مذمت کی جانی چاہیے اور اسے سرزنش کے ساتھ یکسر مسترد کردیا جانا چاہیے۔

 

یہ ہے جمہوریت کے حامیوں کی صورتحال جو پاکستان کی موجودہ سیاسی و فوجی قیادت میں موجود ہیں۔ اور باقی جگہوں پر بھی جمہوریت کا دم بھرنے والوں کی یہی صورتحال ہے چاہے وہ اسلامی تعاون تنظیم او۔ آئی ۔سی ہو یا اسلامی فوجی اتحاد ہو۔ جمہوریت کےیہ دعویدار مسلمانوں کے قتل عام پر تو خود کو صرف مذمتی بیانات تک محدود کرلیتے ہیں لیکن اگر واشنگٹن میں بیٹھے ان کے آقا انہیں حکم دیں تو بجلی کی سی سرعت سے حرکت میں آتے ہیں۔ اس غلامی میں وہ ہماری زبردست افواج کو اقوام متحدہ کی منحوس نیلی ٹوپیاں پہنا کر ،استعماری طاقتوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے، دنیا کے کسی بھی کونے میں پہنچنےکا حکم دے دیتے ہیں ۔ لیکن جب مظلوم مسلمان مدد کے لیے پکارتے ہیں تو یہی جمہوریت کا پرچار کرنے والے، امت کے وفادار شیروں کو حرکت میں نہ لانے کے لیے فضول بہانوں کی فہرست پیش کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

 

جمہوریت کےاِن دعویداروں نے اِس امت کو تقسیم کرکے زنجیروں میں جکڑرکھا ہے ، وہ امت جس کی مجموعی دولت اور طاقتور افواج دنیا کی اکثر عالمی طاقتوں سے زیادہ ہیں۔ انہوں نے امت کواس حد تک تقسیم کردیا ہے اوراِس بری طرح جکڑدیا ہے کہ میانمار (برما) جیسی چھوٹی اور کمزور ریاست بھی کھلم کھلا مسلمانوں کا قتل عام کرتی ہے اور اس کے خلاف کوئی ردعمل تک نہیں آتا۔ہونا تو یہ چاہیے کہ اس ظلم کے خلاف اعلانِ جنگ کرتے ہوئے اسلام آباد میں موجود میانمار کے سفارت خانے کو بند کیا جائے اور رنگون سے پاکستانی سفارتی مشن کو واپس بلانے کا اعلان کیا جائے اور ہمارے کمزور دشمنوں کے دلوں میں وسوسے ڈالنے والے شیاطین کو بھگا دیا جائے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ بنگلادیش کی اِس کمزور حکمران سے یہ مطالبہ کیا جائے کہ وہ ہمارے ایلیٹ ایس ایس جی کمانڈوز، انفنٹری، آرمی ایوی ایشن اور بکتر بند دستوں کے لیے اپنے فوجی اڈے کھول دے تا کہ وہ میانمار کی سرحد پر بنگلادیشی مسلمان فوج کے ساتھ مل جائیں اور یہ متحد مسلم فوج مشرک دشمن کو سبق سکھائے ۔ اور ہونا تو یہ چاہیے کہ 2015 میں ہونے والے اُس معاہدے کو پھاڑ کر پھینک دیا جائےجس کے تحت پاکستان نے میانمار کی فضائیہ کو سولہ جے ایف-17 تھنڈر جنگی طیارے فراہم کرنے ہیں، اور ان میں سے چند طیارے 2017 میں میانمار کی فضائیہ میں شامل کردیے جائیں گے۔ نہ صرف یہ بلکہ اِن طیاروں کی میانمار میں لائسنس کی تحت پیداوار کے لیے ہونے والی بات چیت کو بھی روکنے کا اعلان کیا جائے ۔مگر اِن میں یہ ہمت کہاں ۔ اس کے برعکس، جب کبھی مسلمانوں پر ظلم کیا جاتا ہے چاہے وہ برما میں ہو یا مقبوضہ کشمیر میں یا فلسطین میں، تو جمہوریت کے یہ دعویدارایسا ظاہر کرتے ہیں جیسے اِن کے ہاتھوں میں سوائے دانتوں کا خلال کرنے والے تنکوں کے اور کوئی ہتھیار نہیں۔ اوریہ اِن مذمتی بیانات کے ذریعے ایمان والوں کے زخموں پر نمک ہی چھڑکتے ہیں جبکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا ہے،

 

 

وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ نَصِيرًا

“بھلا کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور اُن ناتواں مردوں، عورتوں اور ننھے ننھے بچوں کے چھٹکارے کے لیے جہاد نہ کرو؟جو یوں دعائیں مانگ رہے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! ان ظالموں کی بستی سے ہمیں نجات دے اور ہمارے لئے خود اپنے پاس سے حمایتی مقرر کردے اور ہمارے لئے خاص اپنے پاس سے مددگار بنا”(النساء:75)۔

 

اے پاکستان کے مسلمانو!

جمہوریت مظلوموں کی چیخوں کو سننے سے قاصر ہے کیونکہ اسے اسلام اور مسلمانوں کی کوئی پروا نہیں۔ صرف اسلام کی حکمرانی ہی ہماری جان،مال، عزت اور زمین کو تحفظ فراہم کرے گی چاہے فلسطین ہو یا مقبوضہ کشمیر یا پھر برما۔ اسلام کی حکمرانی کے کمزور ترین ادوار میں بھی مسلمان ظالموں کے خلاف طاقتور اور فاتح تھے۔ لہٰذا خلافت راشدہ کے برصغیر ہند تک پہنچنے کے کچھ عرصہ بعد، محمد بن قاسم ہمارے مظلوموں کی پکار پر یہاں پہنچا اور راجہ داہر کے ظلم و جبر کا خاتمہ کیا۔ سلطان اورنگ زیب عالمگیر نے مظلوموں کی پکار کے جواب میں میانمار کی موجودہ مشرک بدھ مت حکومت کے آباؤاجداد، راخائن موروڈرز پر حملہ کیا اور انہیں بدترین شکست سے دوچار کیا۔ راخائن ریاست نے اپنی حدود موجودہ بنگلادیش کے شہر چٹاگانگ تک بڑھا لی تھی اور اُس وقت وہ اپنی طاقت کے عروج پر تھی۔ لیکن ان کی طاقت سے مرعوب ہوئے بغیر اورنگ زیب نے جنوری 1666 میں 6500 فوجیوں اور 288 جنگی بحری جہازوں کی مدد سے 36 گھنٹے کے محاصرے کے بعد چٹاگانگ کو آزاد کرالیا اور راخائن کی ریاست کو ایسی بدترین شکست دی جو اُس کے اختتام کا باعث بنی۔

 

یقیناً صرف نبوت کے طریقے پرقائم خلافت ہی مظلوموں کی چیخ و پکار کا ویسا جواب دے گی جیسا کہ اس کا حق ہے۔ خلیفہ راشد، Westphalian نظریہ پر مبنی قومی ریاستی سرحدوں کو نظر انداز کرے گا جس نے امت کو ایک طویل عرصے سےتقسیم اور کمزور کررکھا ہے۔ خلیفہ مسلمانوں کے علاقوں اور افواج کو یکجا کرے گا اور ان میں وہ علاقے بھی شامل ہوں گے جو میانمار کے شیطانی اتحادی بھارت کو گھیرے میں لے لیں گے۔ بھارت – میانمار گٹھ جوڑ کی اُس خلافت کے سامنے کیا اوقات ہو گی جس میں پاکستان، افغانستان، بنگلادیش، ملیشیا اور انڈونیشیا شامل ہوں گے جبکہ باقی مسلم علاقے اس کے علاوہ ہوں گے؟لہٰذا اِن مظلوم مسلمانوں سے آپکی محبت یہ تقاضا کرتی ہے کہ آپ خلافت کے داعیوں کے ساتھ کھڑے ہوں اور مسلمانوں کی ڈھال، نبوت کے طریقے پر خلافت کے قیام کے لیے جدوجہد کریں۔

 

اے افواج پاکستان میں موجود مسلمانو!

خود کو اُسی نظر سے دیکھو جس نظر سے امت آپ کو دیکھتی ہے۔ مسلمانوں کو آپ کی صلاحیتوں اور جذبےپر مکمل اعتماد اور بھروسہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ حکمرانوں کو نظر اندازاور بے عزت کر کے ان کی مذمت کررہے ہیں جس کے وہ حق دار ہیں اور آپ کو براہ راست پکار رہی ہے۔ ان بے شرم حکمرانوں کو کوئی عزت نہ دیں جنہوں نے آپ کو زنجیروں میں باندھ رکھا ہے اور امت کو اُس کامیابی سے ہمکنار کریں جس کی وہ شدید خواہش رکھتی ہےاور امت کی ڈھال خلافت کے خاتمے کے بعد سے آج تک ایسی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔نبوت کے طریقے پر خلافت کے قیام کے لیے حزب التحریر کو فوراً نصرۃ فراہم کریں تا کہ آج جب امت کو آپ کی شدید ضرورت ہے تو آپ عملی طور پر اُس کے وفادار ساتھی بن کر ابھریں اور اِس امت کو دشمنوں پر غلبہ دلائیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا،

 

 

إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آَمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ* وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالَّذِينَ آَمَنُوا فَإِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْغَالِبُونَ

“تمہارا دوست خود اللہ ہے اور اس کا رسول ہے اور ایمان والے ہیں، جو نمازوں کی پابندی کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ رکوع کرنے والے ہیں۔ اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے اور مسلمانوں سے دوستی کرے، وہ یقین مانے کہ اللہ تعالیٰ کی جماعت ہی غالب رہے گی “(المائدہ:56-55)۔

 

بھائیو یہی وقت ہے لہٰذا امت کی پکار کا جواب دو!

ہجری تاریخ :22 من ذي الحجة 1438هـ
عیسوی تاریخ : بدھ, 13 ستمبر 2017م

حزب التحرير
ولایہ پاکستان

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.