اب تیونس میں بات کسی ایک بحران کی نہیں رہی، بلکہ باہم جڑے ہوئے بحرانوں کے ایک ایسے لامتناہی سلسلے کی ہے جس سے پانی، بجلی، تیل، روٹی، چینی اور پیٹرول جیسے شعبے بھی محفوظ نہیں رہ سکے ہیں… کبھی نہ ختم ہونے والی قطاریں لگی ہیں، اور پبلک ٹرانسپورٹ کا تو حال ہی نہ پوچھیے، وہ بیان سے باہر ہے!